پاکستان میں اس وقت ایک بڑا سیاسی تنازع سامنے آ گیا ہے جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال آفریدی کے 2 بیٹوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے اور ان پر منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس خبر نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا پر الزامات گردش کرنے لگے کہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک پی ٹی آئی رکن اسمبلی اور ان کے بیٹے انسانی اسمگلنگ اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
اس تنازع کو اس وقت مزید تقویت ملی جب پاکستانی میڈیا سے وابستہ ایک سینیئر صحافی نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک پی ٹی آئی ایم این اے اور ان کے بیٹے نے انسانی اسمگلنگ سے جڑے ذاتی اقدامات کے ذریعے ‘پاکستان کو بدنام کیا’ ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اقبال آفریدی کا نام لیا اور ان کے بیٹے کامران آفریدی کو اس معاملے سے جوڑا، ساتھ ہی جلد ‘حیران کن اور سنسنی خیز تفصیلات’ سامنے لانے کا عندیہ بھی دیا۔
یہ الزامات تیزی سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل گئے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔ بعض افراد نے ان الزامات کو سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے سنگین قرار دیا۔
ان الزامات کے جواب میں محمد اقبال آفریدی نے آزاد ڈیجیٹل کے بیورو چیف عرفان خان کی جانب سے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں سختی سے تردید کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کے خاندان کا انسانی اسمگلنگ یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ الزامات ‘حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتے’
اقبال آفریدی نے وضاحت کی کہ ان کے دونوں بیٹے پاکستان میں غربت اور بے روزگاری کے باعث اٹلی گئے، جہاں وہ اس وقت ایک مقامی ہوٹل میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں بیٹے یونیورسٹی گریجویٹس ہیں، لیکن میرٹ پر درخواستیں دینے کے باوجود انہیں پاکستان میں روزگار نہ مل سکا۔
سیاسی پناہ کی درخواست سے متعلق سوال پر اقبال آفریدی نے تصدیق کی کہ ان کے بیٹوں نے واقعی اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ پاکستان میں مواقع کی کمی اور مبینہ ناانصافیوں کو قرار دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نہ وہ اور نہ ہی ان کا خاندان کسی قسم کی کرپشن میں ملوث رہا ہے، اور بطور ایم این اے ان کے تین ادوار کسی اسکینڈل کے بغیر مکمل ہوئے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک 3 بار منتخب ہونے والے رکن اسمبلی کا خاندان اس قدر معاشی مشکلات کا شکار کیسے ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب انتخابی مہمات کے اخراجات خاصے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کیا کہ ‘اگر وہ 3 بار ایم این اے منتخب ہوئے ہیں تو اتنے غریب کیسے ہو سکتے ہیں کہ ان کے بیٹے اٹلی جا کر پناہ لیں’۔ کئی افراد نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
تاحال اقبال آفریدی یا ان کے بیٹوں کے خلاف کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جبکہ اطالوی حکام کی جانب سے بھی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس معاملے پر تاحال کوئی سرکاری مؤقف اختیار نہیں کیا۔