پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی سمز اور سائبر فراڈ کے خلاف ایک سال کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، جن کا مقصد ٹیلی کام نظام کو محفوظ بنانا اور عوام کو دھوکہ دہی سے بچانا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ڈیٹا بیس کی صفائی کے عمل کے دوران لاکھوں غیر قانونی اور غیر فعال سمز بند کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں مجموعی طور پر 51 لاکھ سے زائد سمز بلاک کی گئیں، جن میں غیر فعال سمز، فوت شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ سمز اور منسوخ یا ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر جاری سمز شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صرف فوت شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ 32 لاکھ سے زائد سمز بند کی گئیں، جبکہ ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ لاکھوں سمز کو بھی بلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ وطن واپس بھیجے گئے غیر ملکیوں کے نام پر جاری ایک لاکھ سے زائد سمز بھی بند کر دی گئیں۔
پی ٹی اے نے غیر قانونی سم فروخت کرنے والی ویب سائٹس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق 83 ایسی ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا جو غیر قانونی طور پر سمز کی فروخت میں ملوث تھیں۔
غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے پی ٹی اے نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے تعاون سے ملک بھر میں چھاپے مارے۔ ایک سال کے دوران 24 شہروں میں درجنوں کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران ہزاروں مقامی اور غیر ملکی سمز ضبط کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں بایومیٹرک ڈیوائسز اور ڈیجیٹل فنگر پرنٹس بھی تحویل میں لیے گئے۔
حکام کے مطابق ان آپریشنز کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی سمز کے کاروبار میں ملوث تھے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے سم فروشوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اب سم کے اجراء کے لیے تھری فیکٹر تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ بایومیٹرک ڈیوائسز پر جیو فینسنگ اور لائیو فنگر ڈیٹیکشن جیسی جدید سہولیات بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔