واٹس ایپ صارفین کو ایک نئے اور خطرناک سائبر فراڈ ’’گوسٹ پیئرنگ‘‘ کے حوالے سے خبردار کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز بغیر کسی پیچیدہ سیکیورٹی سسٹم کو توڑے صارف کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہائی جیک کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فراڈ تیزی سے پھیل رہا ہے اور عام صارفین اس کا آسانی سے شکار بن سکتے ہیں ، سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فراڈ میں ہیکرز واٹس ایپ کی ’’منسلک ڈیوائسز‘‘ (Linked Devices) کی سہولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
اس طریقے کے تحت ہیکر صارف کے اکاؤنٹ کو کسی دوسرے ڈیوائس سے خفیہ طور پر منسلک کر لیتا ہے، جس کے بعد وہ صارف کے تمام پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر ڈیٹا تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے، اس عمل کے دوران اکثر صارف کو کسی قسم کی واضح اطلاع یا الرٹ بھی موصول نہیں ہوتا، جس سے فراڈ کا انکشاف تاخیر سے ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ’’گوسٹ پیئرنگ‘‘ فراڈ عموماً جعلی لنکس کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جو دیکھنے میں کسی معروف یا قابلِ اعتماد ویب سائٹ جیسے ہوتے ہیں، جیسے ہی صارف اس لنک پر جا کر اپنا موبائل نمبر اور واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ درج کرتا ہے، ہیکر کو اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔
اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ہیکر نہ صرف صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتا ہے بلکہ تصاویر اور ویڈیوز بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ہیکر صارف کی شناخت استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو پیغامات بھیج سکتا ہے، جعلی معلومات پھیلا سکتا ہے اور اس فراڈ کو صارف کی رابطہ فہرست تک مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔
سائبر ماہرین نے واٹس ایپ صارفین کو محتاط رہنے اور چند اہم حفاظتی اقدامات اپنانے کی سخت ہدایت کی ہے، صارفین کو چاہیے کہ وہ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر منسلک ڈیوائسز کی فہرست کو باقاعدگی سے چیک کریں اور کسی بھی غیر معروف یا مشکوک ڈیوائس کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
اس کے علاوہ دو مرحلوں کی تصدیق (Two-Step Verification) کو لازمی طور پر فعال کریں تاکہ غیر مجاز افراد کے لیے اکاؤنٹ تک رسائی مشکل ہو جائے۔ ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مشکوک لنک، ویب سائٹ یا پیغام پر اپنا موبائل نمبر، تصدیقی کوڈ یا QR کوڈ ہرگز درج نہ کریں، چاہے وہ پیغام کسی جاننے والے کی جانب سے ہی کیوں نہ آیا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے پیش نظر صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے اور واٹس ایپ کی حفاظتی خصوصیات کو فعال رکھ کر خود کو ایسے جدید سائبر فراڈ سے محفوظ بنانا چاہیے۔