شہریوں کو ’’صفائی بل‘‘ جرمانے سمیت موصول ہونا شروع

شہریوں کو ’’صفائی بل‘‘ جرمانے سمیت موصول ہونا شروع

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے صفائی کے بلوں کی تقسیم کا آغاز کر دیا ہے تاہم، پہلے ہی مرحلے میں انتظامی بدنظمی اور بھاری بھرکم بلوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بل پہلی بار آیا ہے تو جرمانہ کس بات کا؟ اس کے علاوہ بل میں ماہانہ فکس چارجز کا کوئی واضح طریقہ کار درج نہیں ہے، جس کی وجہ سے شہری الجھن کا شکار ہیں۔

شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہم صفائی کا بل دینے کو تیار ہیں، لیکن حکومت طریقہ کار تو بتائے، پہلے ہی بل میں چار ماہ کے بقایا جات اور جرمانہ بھیجنا سراسر ناانصافی ہے۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ترجمان نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں بلوں کی تقسیم کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے۔ شروع میں شہریوں کی جانب سے ڈیٹا اور معلومات کی فراہمی میں کچھ مسائل پیش آئے، جس کی وجہ سے بلوں کی تیاری میں دشواری ہوئی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارے نے شفافیت کے لیے ایک ایپلی کیشن تیار کی ہے تاکہ بلوں کی تقسیم کو شفاف بنایا جا سکے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے تیار کی گئی اس ایپ کے ذریعے شہریوں کو بلوں میں کسی قسم کی غلطی یا زائد چارجز کی شکایت کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ شہری ‘ستھرا پنجاب’ ہیلپ لائن 1139 پر رابطہ کر کے اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پروازوں کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اجازت کا اصولی فیصلہ

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صفائی بل اب محکمہ ایکسائز وصول کرے گا۔ جنوری 2026 سے ماہانہ بل وصول کیے جائیں گے، جبکہ جون 2026 سے یہ بل سالانہ وصول کیے جائیں گے۔ 3 مرلے کے گھروں پر صفائی ٹیکس عائد نہیں ہوگا، اور 5 مرلے سے 2 کنال تک کے گھریلو صارفین کو 300 سے 2 ہزار روپے تک صفائی بل دینا ہوگا۔

کمرشل صارفین کے لیے اربن ریٹ 500 سے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دیہی گھریلو صارفین کو 200 سے 400 روپے تک صفائی بل دینا ہوگا اور دیہی کمرشل صارفین کو 300 سے 1000 روپے تک کے بل کی ادائیگی کرنی ہوگی۔

Related Articles