باجوڑ کا ’’جار پل‘‘ صوبائی حکومت کی عدم توجہی کا شکار، افواج پاکستان نے عوام کی مشکلات عارضی دور کیں، مستقل تعمیر التوا کا شکار

باجوڑ کا ’’جار پل‘‘  صوبائی حکومت کی عدم توجہی کا شکار، افواج پاکستان نے عوام کی مشکلات عارضی دور کیں، مستقل تعمیر التوا کا شکار

اگست 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ضلع باجوڑ میں شدید تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں علاقے کی سب سے بڑی سڑک اور اہم رابطہ پل جار پل مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ پل کی تباہی سے ہزاروں شہریوں کا روزمرہ کا نظام زندگی درہم برہم ہو گیا اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کے انجینیئرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے موقع پر ہی ایک عارضی لوہے کا پل تعمیر کیا، جس کے ذریعے علاقے میں آمد و رفت بحال ہو سکی۔ اس عارضی پل کے ذریعے نہ صرف شہریوں کی نقل و حرکت ممکن ہوئی بلکہ مریضوں، طلبا اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی سہارا ملا۔

پاک فوج کی بروقت مدد، عوام کا اظہارِ تشکر

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر پاک فوج فوری مدد نہ کرتی تو باجوڑ کے عوام شدید اذیت میں مبتلا رہتے۔ عوام کے مطابق ’ہم پاک فوج کے مشکور ہیں کیونکہ پل کے تباہ ہونے سے ہماری زندگی مفلوج ہو گئی تھی‘۔ ایک مقامی شہری نے کہا کہ ’پاک فوج نے ہماری مشکلات کو دیکھتے ہوئے عارضی طور پر پل قائم کیا، جس سے ہمیں بڑی سہولت ملی‘۔

یہ بھی پڑھیں:باجوڑ میں شہید ہونے والے میجر عدیل زمان کی نمازِ جنازہ پشاور میں ادا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت

عوام کا مزید کہنا ہے کہ ’پاک فوج نے سیلاب کے فوراً بعد لوہے کا پل بنا دیا، اللہ ان کا بھلا کرے‘۔ شہریوں کے مطابق فوجی انجینیئرز نے انتہائی کم وقت میں عارضی حل فراہم کیا، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

صوبائی حکومت پر شدید تنقید

علاقہ مکینوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید مایوسی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عوام کے مطابق عارضی پل کی تعمیر کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے مستقل پل کی تعمیر کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ’اس عارضی پل کے بعد صوبے کی جانب سے اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا‘۔ عوام کے مطابق کچھ روز قبل مقامی ایم پی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ پل کی منظوری ہو چکی ہے اور جلد کام شروع ہوگا، تاہم یہ دعوے بھی محض وعدے ثابت ہوئے۔

فنڈز کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا

عوام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کام جلد شروع کر دیا جائے گا، مگر تاحال نہ کوئی مشینری پہنچی ہے اور نہ ہی عملی کام کا آغاز ہو سکا ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ ’صوبائی حکومت کہتی ہے کہ آج کل کام شروع کر دیں گے، لیکن آج تک کوئی نہیں آیا اور پل خراب پڑا ہے‘۔

علاقہ مکینوں کے مطابق نہ تو کسی صوبائی وزیر نے اب تک موقع کا دورہ کیا ہے اور نہ ہی رابطہ پل کی تعمیر پر سنجیدگی دکھائی گئی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ’نہ مشینیں آئی ہیں اور نہ ہی کام شروع ہو سکا ہے‘۔

حکومت سے فوری مطالبہ

باجوڑ کے عوام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جو فنڈز اس منصوبے کے لیے مہیا کیے گئے ہیں، ان پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے تاکہ مستقل اور محفوظ پل تعمیر ہو سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عارضی پل کسی بھی وقت مزید خراب ہو سکتا ہے، جس سے ایک بار پھر علاقے کے مکین شدید مشکلات میں گھر سکتے ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق جار پل کی مستقل تعمیر نہ ہونا صوبائی حکومت کی نااہلی کی واضح مثال ہے، جبکہ پاک فوج کی بروقت مدد نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مشکل وقت میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اس کا امتیازی وصف ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *