لاہور میں ایک یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ کے شدید زخمی حالت میں پائے جانے کے بعد پولیس نے تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ طالبہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔ حکام کے مطابق طالبہ تاحال بے ہوش ہے اور وینٹی لیٹر پر ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ صبح سویرے یونیورسٹی پہنچی، تاہم اس نے کوئی کلاس اٹینڈ نہیں کی اور واقعے سے قبل کیمپس میں ہی موجود رہی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ واقعے سے پہلے طالبہ کی موبائل فون سرگرمی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ طالبہ کے ایک پرانے موبائل فون کو ایک دن قبل اس کے بھائیوں نے خراب ہونے کے باعث اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ حالیہ تعلیمی نتائج سے مطمئن نہیں تھی اور اس حوالے سے اس نے اپنے اہلِ خانہ سے بات بھی کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے کسی گھریلو تنازع کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔ حکام کے مطابق طالبہ کے اہلِ خانہ کی جانب سے تاحال کسی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ پولیس طالبہ کے بھائیوں سمیت دیگر اہلِ خانہ کے تفصیلی بیانات قلم بند کر رہی ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے، جس کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعات کی ترتیب واضح کی جا سکے۔ حکام کے مطابق طالبہ کے ہوش میں آنے اور بیان ریکارڈ کرانے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
واقعے کے بعد طالبہ کو لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی ہنگامی سرجری کی گئی۔ اسپتال کے میڈیکل بورڈ کے مطابق متعدد فریکچرز کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری طبی اقدامات کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے دماغی سرجری نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ادویات کے ذریعے علاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم جامع علاج کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ پولیس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تمام شواہد اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔