بنگلہ دیش میں بی این پی کے سابق سینیئر رہنما عزیزالرحمان مسبیر فائرنگ میں قتل

بنگلہ دیش میں بی این پی کے سابق سینیئر رہنما عزیزالرحمان مسبیر فائرنگ میں قتل

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فائرنگ کے واقعے میں اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی رضاکار تنظیم کے سابق سینیئر رہنما عزیز الرحمان مسبیر جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد شہر میں سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن کارکنوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر، جو بی این پی کی رضاکار تنظیم جتیاتابادی سوییچچھاسبک دل کی ڈھاکا نارتھ یونٹ کے سابق جنرل سیکریٹری رہ چکے تھے، وسطی ڈھاکا کے مصروف تجارتی علاقے بشندھرا سٹی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ فائرنگ کے فوراً بعد انہیں شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے باوجود ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بنگلہ دیش کے ایئر چیفس کی ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

اسی واقعے میں ایک اور شخص سفیان بیپاری مسعود، جو مقامی لیبر یونین کے سرگرم رہنما بتائے جاتے ہیں، گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق انہیں فوری طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی بی این پی کے کارکنان اور ہمدرد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ کاروان بازار کے علاقے میں کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کر دیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور مظاہرین نے واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ذمہ داروں کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے فوراً بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حکام کے مطابق اردگرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر کے اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے، تاہم تاحال فائرنگ کے محرکات یا پس منظر سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

مقامی بی این پی رہنماؤں کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر فائرنگ سے کچھ دیر قبل پارٹی ساتھیوں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے اور اجلاس کے بعد واپسی کے دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی قیادت نے اس واقعے کو ‘منظم اور ٹارگٹڈ حملہ’ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو دانستہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رہنماؤں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کی سیاست میں انقلابی تبدیلی: جماعت اسلامی کا طلبا کی نیشنل سٹیزن پارٹی سے اتحاد

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات قریب ہیں اور سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا کشیدہ ہے۔ ماضی میں بھی انتخابی ادوار کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں کے دوران جھڑپوں، گرفتاریوں اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث اس تازہ واقعے نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

Related Articles