کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک جانب خوش خبری سامنے آئی ہے تو دوسری جانب مستقبل میں اضافے کی اطلاع نے تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 93 پیسے کمی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا ملک بھر میں فی یونٹ بجلی سستی کرنے کا فیصلہ
نیپرا کے اعلامیے کے مطابق اس کمی کا فائدہ کراچی سمیت پورے ملک کے بجلی صارفین کو جنوری کے بلوں میں ملے گا، تاہم لائف لائن صارفین اس ریلیف سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ حکام کے مطابق فیول کی لاگت میں کمی کے باعث صارفین کو یہ وقتی ریلیف دیا جا رہا ہے، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین کے بجلی بلوں میں جزوی کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق یکم جنوری سے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپے 79 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد جنوری 2026 سے فی یونٹ بجلی کے اوسط نرخ 33 روپے 38 پیسے مقرر کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:مہنگی بجلی،زیادہ ٹیکس،ملک بھرمیں144 ٹیکسٹائل ملز بند
نیپرا کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے متعلق فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے اور اس کا اطلاق حکومت کی منظوری کے بعد ہو گا۔ واضح رہے کہ اس وقت ملک میں فی یونٹ بجلی کے اوسط بنیادی نرخ 31 روپے 59 پیسے نافذالعمل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ برس صارفین کو بجلی مزید مہنگی ملنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت دی جانے والی کمی عارضی ہوتی ہے، جبکہ بنیادی نرخوں میں اضافہ طویل المدتی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ صارفین تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں مستقل بنیادوں پر کمی کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرے تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

