وینزویلا کے وزیرِ داخلہ ڈیوسدادو کیبیلو نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والی امریکی فوجی کارروائی میں 100 افراد ہلاک ہوئے، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا کر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کراکس کی جانب سے ہلاکتوں سے متعلق جاری کیے گئے پہلے سرکاری اعداد وشمار ہیں۔
ڈیوسدادو کیبیلو کے مطابق امریکی حملے میں ہونے والی ہلاکتیں پہلے سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس سے قبل وینزویلا کی فوج نے صرف 23 فوجیوں کی ہلاکت کی فہرست جاری کی تھی، جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان کو قتل کیا گیا۔
وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ کیوبا کے اہلکاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کیوبا کے مطابق اس کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے 32 ارکان ہلاک ہوئے، تاہم مختلف رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔
مادورو اور خاتونِ اول کو چوٹیں
ڈیوسدادو کیبیلو کے مطابق کارروائی کے دوران مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس، جنہیں ان کے ساتھ حراست میں لیا گیا، کے سر پر چوٹ آئی، جبکہ صدر مادورو کی ٹانگ زخمی ہوئی۔ دونوں اس وقت امریکی تحویل میں ہیں۔
منگل کو وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگز نے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر ایک ہفتے کے قومی سوگ کا اعلان کیا۔ کیبیلو نے سرکاری ٹی وی پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں رودریگز کو ’بہادر‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس اور ان کی اہلیہ پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کر دی گئ ہے، جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔