میری اپنی اخلاقیات،میرا اپنا فیصلہ ہے،کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کیلئے آزاد ہیں،ٹرمپ

میری اپنی اخلاقیات،میرا اپنا فیصلہ ہے،کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کیلئے آزاد ہیں،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں،نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین یا عالمی معاہدوں کی حدود میں قید نہیں ہیں بلکہ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کو اپنے مفادات کے دفاع کے لیے کسی بھی ملک میں کارروائی کرنی پڑی تو وہ اس سے گریز نہیں کریں گےانہوں نے کہا کہ انہیں روکنے والی کوئی بین الاقوامی عدالت یا عالمی قانون نہیں بلکہ صرف ان کی ذاتی اخلاقیات اور فیصلہ سازی کا معیار ہے،انہوں نے کہا کہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا فیصلہ ہی وہ واحد چیز ہے جو مجھے حدود میں رکھتی ہے نیٹو کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں نیٹو یا کسی بھی عالمی اتحاد سے کوئی خوف نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چین میرے دورِ صدارت میں تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ

انہوں نے دعوی کیا کہ چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں بھی امریکا سے خوفزدہ ہیں اور امریکی عسکری قوت دنیا میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ طاقت کا استعمال اور فوجی اقدامات اکثر امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں،انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے اظہار سے عالمی سطح پر امریکا کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے اور دیگر ممالک کو واضح پیغام جاتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بعض اوقات ان قوانین پر عمل ضروری محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ قانون کی تشریح کس انداز میں کی جا رہی ہے ان کے مطابق، قوانین کی تشریح حالات اور امریکی مفادات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
ادھر ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد کولمبیا کے صدر نے ملکی مسلح افواج کو ہدایات جاری کر دی ہیں، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles