اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اندرونی نظم و ضبط کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور عمران خان کی رہائی اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے جب پارٹی میں مکمل ڈسپلن قائم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بڑی سیاسی تحریک کی کامیابی کے لیے قیادت اور کارکنوں کے درمیان واضح نظم و ضبط ناگزیر ہوتا ہے لاہور بار کے صدارتی امیدوار کے انتخابی کیمپ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ روز نکالے گئے جلوس میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی سطح پر سیاسی حمایت موجود ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے اجتماع کے باوجود نہ تو اسپیکر کا انتظام تھا اور نہ ہی مائیک کی سہولت میسر تھی جو پارٹی کے اندر بدانتظامی اور عدم تیاری کو ظاہر کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ڈسپلن نہیں ہر سو بندے کا ایک لیڈر ہے، انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں چھوڑا کیونکہ وہ مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں کسی عہدے یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں آئے بلکہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ انہیں ہمیشہ مظلوموں اور کمزور طبقات کے ساتھ کھڑے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور وہ خود کو پاکستان میں جمہوری اور آئینی تحریکوں کا وارث سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جدوجہد کا اصل مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کو انصاف فراہم کرنا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ جب تک معیشت مستحکم نہیں ہوگی، ملک کا نظام درست انداز میں نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق، معاشی کمزوری سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے، جس سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے واضح کیا کہ اگر تمام سیاسی فریق اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ دکھائیں تو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصادم اور ضد کی سیاست کے بجائے بات چیت ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔