وفاقی آئینی عدالت نے نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس فیصلے کے تحت اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کو نجی اداروں کے اہل ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے ، عدالت نے ای او بی آئی کی جانب سے دائر کی گئی تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ ملازمین بھی اولڈ ایج پنشن کے حقدار ہوں گے جنہوں نے پورے پندرہ سال مکمل نہیں کیے، بلکہ اگر کوئی ملازم ساڑھے چودہ سال یا اس سے زیادہ مدت تک سروس انجام دے چکا ہو تو اسے پندرہ سال مکمل تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے کہا کہ سروس کے چھ ماہ یا اس سے زائد عرصے کو پورا ایک سال شمار کیا جائے گا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ای او بی آئی کے 2022 کے جاری کردہ سرکلر کو بھی غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ کوئی انتظامی سرکلر ملازمین کے پنشن کے قانونی حق کو ختم نہیں کر سکتا، وفاقی آئینی عدالت نے ہدایت کی کہ تمام درخواست گزاروں کو فوری طور پر ماہانہ اولڈ ایج پنشن ادا کی جائے۔
فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھا گیا ہے ، عدالت کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ قانون اور انصاف کے مطابق ہیں۔
آئینی عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ فلاحی قوانین کی سخت تشریح کے ذریعے ملازمین کو پنشن سے محروم کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔
عدالت نے کہا کہ پنشن جیسے فلاحی معاملات میں “راؤنڈنگ آف” کے اصول کو لاگو کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ملازم کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
اس فیصلے کو نجی شعبے کے ملازمین کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں افراد کو مالی تحفظ مل سکے گا۔