لاہور میں سیکنڈ ہینڈ موبائل فون کی غیر محتاط خریداری شہریوں کو مالی نقصان اور قانونی مسائل میں مبتلا کر رہی ہے، جہاں ہزاروں افراد نادانستہ طور پر چوری شدہ موبائل فون استعمال کرتے رہے۔
پولیس کے موبائل ٹریکنگ یونٹ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات برسوں کے دوران لاہور سے چوری یا دوران واردات چھینے گئے 35 ہزار سے زائد موبائل فونز برآمد کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد ایسے موبائل فونز کی ہے جو شہریوں نے آن لائن پلیٹ فارمز یا غیر رجسٹرڈ ڈیلرز سے بغیر کسی تصدیق کے خریدے۔
گزشتہ برس ہی پولیس نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 6 ہزار سے زیادہ چوری شدہ موبائل فونز برآمد کیے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد فونز ایسے صارفین کے استعمال میں تھے جو خریداری کے وقت فون کی قانونی حیثیت کی تصدیق نہیں کر سکے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 60 فیصد کیسز میں آن لائن موبائل خریدنے والے افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ نادانستہ طور پر چوری شدہ ڈیوائس استعمال کر رہے تھے۔
اس صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو سختی سے ہدایت کی جا رہی ہے کہ موبائل فون خریدتے وقت متعلقہ دستاویزات، شناختی معلومات اور فون کی آئی ایم ای آئی تصدیق لازمی حاصل کریں۔
حکام نے بتایا کہ آن لائن موبائل فروخت کرنے والی ویب سائٹس اور غیر رجسٹرڈ موبائل ڈیلرز کے خلاف کارروائی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ چوری شدہ موبائل فونز کی غیر قانونی فروخت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ لاہور کے بڑے تجارتی مراکز کو ایک بار پھر ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ای گیجٹ ایپ کے ذریعے تصدیق کے بغیر کسی بھی موبائل فون کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔
شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ تھوڑی سی احتیاط سے بڑے مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔