شدید سرد موسم پر بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کو اجاگر کرنے والے ایک اقدام میں، پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پرایک آن لائن پول شروع کیا جس میں پوچھا گیا کہ اسکولوں اور کالجوں کو کب دوبارہ کھلنا چاہیے، جس پرعوام کی غالب اکثریت نے 19 جنوری تک اسکولوں میں چھٹیوں کو توسیع دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
رانا سکندر حیات کی جانب سے پول 9 جنوری کو پوسٹ کیا گیا جس میں اب تک 27 ہزار سے زیادہ افراد نے ووٹ دیا ہے۔ نتائج کے مطابق 83.5 فیصد افراد نے 19 جنوری تک موسم سرما کی چھٹیوں میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے، جبکہ صرف 16.5 فیصد نے 12 جنوری کو طے شدہ تاریخ کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے کی حمایت کی ہے۔
سرکاری طور پر موسمِ سرما کی تعطیلات 22 دسمبر 2025 سے 10 جنوری 2026 تک تھیں۔ حالیہ دنوں میں پنجاب شدید سردی کی لپیٹ میں ہے، درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے باعث والدین، طلبا اور اساتذہ نے خصوصاً دھند اور سردی میں اسکول جانے والے کم عمر بچوں کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات، جو پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے رہنما اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے فارغ التحصیل ہیں، نے پول میں سادہ سا سوال کیا کہ’ پنجاب میں اسکول اور کالج کب دوبارہ کھلنے چاہئیں؟ پول میں دو تاریخیں دی گئی ہیں جن میں صرف 12 جنوری تک یا پھر 19 جنوری تک۔
اگرچہ یہ پول کسی بھی سرکاری فیصلے کے لیے پابند نہیں تھا، تاہم یہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور 10 جنوری کی ابتدائی چند گھنٹوں تک 27,933 ووٹ حاصل کر چکا ہے۔ جس میں صارفین نے شدید سردی کے باعث 10 سے 20 جنوری تک چھٹیوں کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل وزیر اور پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر تعطیلات میں کسی توسیع کو مسترد کر دیا گیا تھا تاہم ایکس پر ایک الگ پیغام میں رانا سکندر حیات نے وضاحت کی کہ اسکول اور کالج 12 جنوری کو ان شا اللہ کھلیں گے۔ براہِ کرم جعلی خبروں سے گریز کریں۔
یہ اعلان پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مؤقف کے مطابق ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پیر، 12 جنوری کو طے شدہ شیڈول کے مطابق کھلیں گے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ صرف مستند ذرائع پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس کو نظرانداز کریں، جنہوں نے حالیہ دنوں میں کنفیوژن کو جنم دیا۔
توسیع کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند اور سردی کی لہریں طلبہ میں سانس کی بیماریوں جیسے مسائل کو جنم دیتی رہی ہیں۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق عالمی حدت کے باعث موسم کے پیٹرنز تبدیل ہو رہے ہیں اور جنوری میں سردی عموماً دسمبر سے زیادہ شدید ہو رہی ہے، جس سے روایتی تعطیلات غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔
پنجاب میں سردی کی شدت برقرار ہے اور شمالی اضلاع میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، حکومت اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ وزیرِ تعلیم نے ابھی تک پول کے نتائج پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق مستقبل میں کسی بھی تبدیلی کے لیے باضابطہ جائزہ درکار ہوگا، نہ کہ سوشل میڈیا ووٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔
حکام قائم شدہ شیڈول پر عمل درآمد پر زور دے رہے ہیں۔ طلبا اور خاندانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ 12 جنوری سے کلاسز کے آغاز کے لیے تیار رہیں، البتہ دھند زدہ علاقوں میں اوقات کار میں ردوبدل جیسے حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔