وفاقی حکومت کا بجلی کے بنیادی ٹیرف سے متعلق بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت کا بجلی کے بنیادی ٹیرف سے متعلق بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک بھر کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور سال 2026 کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’نیپرا‘ نے 2026 کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 62 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے کر اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا، تاہم حکومت نے اس کمی کو لاگو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف نے بجلی ٹیرف میں 1روپے فی یونٹ کمی کی اجازت دیدی

حکام پاور ڈویژن کے مطابق نیپرا نے سال 2026 کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف 34 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس حوالے سے نیپرا میں ملک بھر کے لیے یکساں بجلی ٹیرف کی حکومتی درخواست پر سماعت بھی ہوئی تھی، جس کے بعد اتھارٹی نے بنیادی ٹیرف میں کمی کی منظوری دیتے ہوئے اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کیا۔

پاور ڈویژن حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے نیپرا کی منظوری کے باوجود صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کسی قسم کی کمی یا اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس وقت بجلی کی قیمت پر بھاری سبسڈی فراہم کر رہی ہے، اس لیے بنیادی ٹیرف میں تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ حکام نے واضح کیا کہ نہ تو بجلی کی قیمت میں کمی کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ موجودہ نرخ ہی برقرار رہیں گے۔

پاور ڈویژن کے مطابق نیشنل گرڈ میں بجلی کی مجموعی انسٹالڈ کپیسٹی 36 ہزار 397 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بجلی کی پیداوار میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو کر 26 فیصد رہ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث درآمدی فیول پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں:بجلی صارفین کیلئے خوشخبری ، نیپرا کیجانب سے بنیادی ٹیرف میں کمی کا اعلان

حکام نے مزید بتایا کہ ملک میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں بجلی کے کم نرخوں پر سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس وقت بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے بچایا جا سکے اور بجلی کے نرخوں کو ایک حد تک مستحکم رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ اگرچہ نیپرا کی جانب سے بنیادی ٹیرف میں کمی کی منظوری صارفین کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی تھی، تاہم وفاقی حکومت کا فیصلہ مالی دباؤ، سبسڈی کے بوجھ اور مجموعی توانائی پالیسی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ آئندہ دنوں میں بجلی کے شعبے سے متعلق حکومتی فیصلے ملکی معیشت اور صارفین پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *