قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بھرپور احتجاج اور واک آؤٹ کے بعد حکومت نے اسپیشل اکنامک زون سے متعلق جاری کیا گیا آرڈیننس واپس لے لیا ہے۔ اس پیش رفت کو پارلیمانی دباؤ اور سیاسی ردعمل کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے آرڈیننس واپس لینے کا باضابطہ فیصلہ کیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے یہ آرڈیننس صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر نافذ کیا تھا، جس پر آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے گئے۔ صدرِ مملکت نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی تھی۔ اس معاملے نے ایوان کے اندر اور باہر سیاسی ہلچل پیدا کر دی، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا تھا۔
پیپلز پارٹی نے آرڈیننس کے اجرا کو پارلیمان کی بالادستی کے منافی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا اور اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔ پارٹی قیادت کا کہنا تھا کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنا نہ صرف آئینی روایات کی خلاف ورزی ہے بلکہ پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایوان میں بیٹھ کر اسی کے خلاف سازش کرنے والے ریاست کے دشمن ہیں،سپیکر قومی اسمبلی
اس سے قبل سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا تھا کہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیرِ قانون سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ ایسے اقدامات حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈال سکتے ہیں۔

