پاکستان نے گزشتہ سال اپوسٹیل تصدیق سے 2 ارب روپے حاصل کیے،سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ میں انکشاف

پاکستان نے گزشتہ سال اپوسٹیل تصدیق سے 2 ارب روپے حاصل کیے،سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ میں انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں اپوسٹیل تصدیق کے طریقہ کار سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی اجلاس میں سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر روبینہ قائم خانی اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے شرکت کی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اپوسٹیل تصدیق دنیا کے 112 ممالک میں تسلیم شدہ ہے اور یہ 1961 کے ہیگ کنونشن برائے غیر ملکی عوامی دستاویزات کی تصدیق کی شرط کے خاتمے کے تحت نافذ ہے،بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ خارجہ کو روزانہ ہزاروں دستاویزات عام تصدیق اور اپوسٹیل تصدیق کے لیے موصول ہوتی ہیں۔ اس بھاری کام کے بوجھ کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے اور عوامی سہولت کے لیے وزارت نے پاکستان کے مختلف اضلاع میں علاقائی دفاتر کو تصدیق کا اختیار دیا ہے، جس کی بنیاد اُن علاقوں میں درخواستوں کے زیادہ حجم کے اعداد و شمار پر رکھی گئی ہے۔.

یہ بھی پڑھیں :متحدہ عرب امارات نے عام پاکستانیوں کیلیے ویزے روک دیے، سینٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں بڑا انکشاف

مزید بتایا گیا کہ وزارتِ خارجہ نے تیز رفتار عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے تصدیق کے عمل میں پانچ کورئیر کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے وزارت کے حکام پر زور دیا کہ کورئیر کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ سروس ڈیلیوری میں مزید بہتری آئے، اور یہ ہدایت بھی دی کہ درخواست گزاروں، خصوصاً طلبہ، کو کورئیر کے ذریعے تصدیق کے انتخاب پر زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کورئیر سروس کے استعمال کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ عوام کو تصدیق کے لیے سفر نہ کرنا پڑے۔

تصدیق کی مختلف اقسام سے متعلق درخواستوں کے تناسب پر سوال کے جواب میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً 26 فیصد درخواستیں تعلیمی دستاویزات سے متعلق ہوتی ہیں، جبکہ باقی درخواستیں نادرا کی دستاویزات، عدالتی احکامات، اور وفاقی و صوبائی اداروں کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کمیٹی نے عوامی سہولت کو مزید بہتر بنانے کے لیے جنوبی پنجاب میں واک اِن تصدیق کی سہولیات قائم کرنے کی بھی سفارش کی، کیونکہ اس خطے سے درخواست گزاروں کی تعداد زیادہ ہے۔

وزارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ سال اپوسٹیل تصدیق سے تقریباً 2 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی؛ تاہم عام تصدیق کے لیے فی الحال کوئی فیس وصول نہیں کی جا رہی۔ مزید بتایا گیا کہ عام تصدیق کے لیے فیس متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جنید اکبر خان کا قائمہ کمیٹی برائے سمندرپار پاکستانی امور سے استعفیٰ

چیئرمین نے وزارتِ خارجہ کی کوششوں کو سراہا، بالخصوص نائب وزیرِ اعظم ،وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی قیادت میں کورئیر سروس کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کی سہولت فراہم کرنے پر جس سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اسلام آباد سفر کیے بغیر آسانی سے تصدیق کی سہولت میسر آئی،انہوں نے ہدایت کی کہ تصدیق کے پورے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا بدعملی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز، بشمول مصنوعی ذہانت کے استعمال اور نادرا، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام کی بھی حوصلہ افزائی کی تاکہ دستاویزات کی مستند حیثیت کو یقینی بنایا جا سکے،کمیٹی کو اجلاس کے دوران “وینزویلا کی صورتِ حال اور جنوبی امریکہ میں پاکستان کی سرکاری پوزیشن اور مستقبل کے اثرات” کے حوالے سے ایک جامع اِن کیمرہ بریفنگ بھی دی گئی۔ چیئرمین نے وزارتِ خارجہ اور اس کے حکام کی عالمی سطح پر پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مؤثر انداز میں برقرار رکھنے پر تعریف کی۔

author
مغیث علی ایک معروف پاکستانی صحافی ہیں جو ٹی وی، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ٹوئٹر/X پر خبروں، تجزیوں اور تازہ ترین حالات کی بروقت معلومات شیئر کرتے ہیں، جس کی بدولت وہ پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں ایک نمایاں آواز بن چکے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *