بارش برسانے والا نیا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہونے کو تیار، بارش کا کتنا امکان؟

بارش برسانے والا نیا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہونے کو تیار، بارش کا کتنا امکان؟

پاکستان میں شدید سردی کی لہر برقرار ہے اور اب مغرب سے بارش برسانے والا نیا سسٹم بھی ملک میں داخل ہونے والا ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں موسم مزید سرد  ہونے کا امکان ہے۔

 محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا، اس کے اثرات زیادہ تر مری، گلیات اور بالائی پنجاب تک محدود رہنے کی توقع ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کا امکان کم ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اس وقت شدید سردی اور دھند کا راج ہے،  صبح اور رات کے اوقات میں دھند کے باعث حدِ نگاہ کم ہو رہی ہے، جبکہ دن کے وقت بادلوں اور سورج کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔

 ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بادلوں کی موجودگی اور مسلسل دھند نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو سخت سرد موسم کا سامنا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغرب سے آنے والا بارش برسانے والا سسٹم پنجاب کے میدانی علاقوں بشمول لاہور میں خاطر خواہ بارش نہیں برسائے گا ،  اس کے برعکس مری، گلیات اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بارش کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر ہلکی برفباری کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے سردی کی شدت  میں اضافہ ممکن ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : سردی کی شدت میں مزید اضافہ؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا

لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 14 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ سرد ہواؤں کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں، جبکہ موسم خشک اور سرد رہے گا تاہم دھند کا سلسلہ جاری رہے گا،  جس کے باعث موٹرویز اور شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سرد موسم میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کا خاص خیال رکھا جائے، کیونکہ شدید سردی اور دھند صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *