سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی واضح مخالفت کرتے ہوئے واشنگٹن کو اس کے ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو پس پردہ پیغامات کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق خلیجی ممالک نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں عالمی تیل منڈی شدید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی، جس کے اثرات براہ راست امریکی معیشت تک پہنچیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں بظاہر خاموش دکھائی دیتی ہیں تاہم پس منظر میں وہ بھرپور سفارتی لابنگ کر رہی ہیں تاکہ امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکا جا سکے۔
قطر کی جانب سے خاص طور پر اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کا تصادم پورے خطے کے لیے سنگین اور تباہ کن اثرات کا باعث بنے گا، خلیجی ممالک کا موقف ہے کہ خطے میں پہلے ہی عدم استحکام موجود ہے اور کسی نئی جنگ سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی تنازع میں فریق نہیں بنیں گے اور نہ ہی امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں خطے کو ایک اور جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ خلیجی ریاستیں نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور معاشی استحکام کو بھی اولین ترجیح دے رہی ہیں۔