پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان آرمی اور امریکی فوج کے درمیان مشترکہ فوجی مشق “انسپائرڈ گیمبٹ 2026” بھرپور انداز میں جاری ہے۔یہ دوطرفہ تربیتی مشق جنوری کے آغاز میں شروع ہوئی اور 16 جنوری تک جاری رہے گی۔
دو ہفتوں پر محیط اس مشق میں خصوصی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے پہلوؤں پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کا مقصد بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق “انسپائرڈ گیمبٹ” پاکستان اور امریکا کے درمیان 1995 سے جاری دوطرفہ فوجی تربیتی تعاون کا حصہ ہے اور 2026 کی مشق اس سلسلے کی 13ویں کڑی ہے،ان مشقوں کے دوران دونوں افواج کے دستے جدید تربیتی طریقوں کے تحت مشترکہ کارروائیوں، عملی مشقوں اور زمینی حقائق پر مبنی منظرناموں میں حصہ لے رہے ہیں، تاکہ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کو مزید نکھارا جا سکے۔
مشق کے دوران نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ڈسٹنگوشڈ وزیٹرز ڈے کا انعقاد بھی کیا گیا، اس موقع پر پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور محترمہ نیٹلی بیکر نے شرکت کی، جبکہ ان کے ہمراہ سینئر امریکی عسکری حکام بھی موجود تھے۔ تقریب میں کور کمانڈر راولپنڈی کی شرکت نے اس مشق کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمانوں کو مشق کے دائرۂ کار، مقاصد اور عملی طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشق کا بنیادی ہدف دونوں افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔
مشق کے دوران پاکستان اور امریکی افواج کے دستوں نے اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے وزیٹرز ڈے میں شریک مہمانوں نے سراہا،آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمانوں نے دونوں افواج کی ہم آہنگی اور تربیتی معیار کی تعریف کرتے ہوئے اسے دوطرفہ دفاعی تعاون کی ایک کامیاب مثال قرار دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اس مشق کا مقصد نہ صرف انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ اور طریقۂ کار میں مزید بہتری لانا ہے بلکہ باہمی ہم آہنگی اور انٹرآپریبلٹی کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانا بھی اس کے اہم اہداف میں شامل ہے۔