اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کے معاملے پر وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے آ گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور اس معاملے پر وفاقی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل اتھارٹی کے درمیان ہے اور اسی دائرے میں اسے دیکھا جانا چاہیے۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت شیری رحمان نے کی، جس میں نو منتخب سینیٹر عابد شیر علی نے حلف اٹھایا۔ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سوالات اٹھائے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے ماتحت ہے اور اس حوالے سے سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ اسپیکر آفس میں جمع کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ انتظامی اور عدالتی دائرہ اختیار کا معاملہ ہے۔
اجلاس کے دوران دیگر امور پر بھی بحث کی گئی۔ کئی سینیٹرز نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست روی، ٹیلی کام کمپنیوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اس پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان کو یقین دلایا کہ اراکین کے خدشات دور کیے جائیں گے۔
تاہم پریذائیڈنگ افسر نے انٹرنیٹ سروسز سے متعلق معاملہ مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اس موقع پر سینیٹر فلک ناز نے بچوں میں سوشل میڈیا ایپس کے حد سے زیادہ اور بغیر نگرانی استعمال پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیا۔
سینیٹ کا اجلاس کارروائی مکمل ہونے کے بعد پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔