امریکا نے کینیڈا کے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس کے تحت چین سے محدود تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کے لیے طویل المدت طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اوٹاوا کو مستقبل میں اس فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے اوہائیو میں فورڈ موٹر کمپنی کی فیکٹری کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اگر اپنی مارکیٹ میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے راستہ کھولتا ہے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا چینی گاڑیوں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور کینیڈا کو اس فیصلے پر پچھتاوا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کینیڈا نے گزشتہ برس چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا تھا، جو امریکی پالیسی کے مطابق تھا تاہم اب محدود تعداد میں ان گاڑیوں کی اجازت دینے پر واشنگٹن میں خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اس سے چین کو شمالی امریکا میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اپنی آٹو انڈسٹری کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے فوری طور پر امریکی آٹو ساز اداروں کو نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ گاڑیاں امریکا نہیں بلکہ کینیڈا کی مارکیٹ کے لیے ہیں تاہم انہوں نے کینیڈا کے اس فیصلے کو غیر واضح اور غیر دانشمندانہ قرار دیا۔
دوسری جانب کینیڈا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے چینی قیادت سے رابطے میں بتایا کہ دونوں ممالک ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں اور زرعی مصنوعات پر عائد بھاری ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ نئے معاہدے کے تحت انہیں توقع ہے کہ چین یکم مارچ تک کینیڈا کی کینولا سیڈ پر ٹیرف کم کر کے مجموعی طور پر پندرہ فیصد تک لے آئے گا تاہم جیمی سن گریئر نے اس معاہدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طویل مدت میں کینیڈا کو اس فیصلے پر بھی خوشی نہیں ہوگی۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور جدید گاڑیوں سے متعلق قوانین چینی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے رہیں گے ، صدر ٹرمپ اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں چینی آٹوساز کمپنیاں امریکا میں آئیں لیکن کانگریس اور امریکی آٹو انڈسٹری بھی چینی گاڑیوں کی سخت مخالف نظر آتی ہے۔