عمران خان آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں، اچکزئی ان کے سیاسی انداز کو فالو نہیں کریں گے، بتول راجپوت

عمران خان آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں، اچکزئی ان کے سیاسی انداز کو فالو نہیں کریں گے،   بتول راجپوت

سینئر اینکر پرسن بتول راجپوت نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سیاست ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے کردار پر کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ محمود خان اچکزئی عمران خان کی اس پالیسی کو، جس میں احتجاج اور مذاکرات دونوں شامل ہیں، عملی طور پر کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں۔

بتول راجپوت نے سوال اٹھایا کہ آیا محمود خان اچکزئی اپنے پرانے سیاسی اتحادی نواز شریف اور موجودہ سیاسی حقیقت عمران خان کو بیک وقت ساتھ لے کر چل سکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 کی حکومت کے دوران نواز شریف کے دور میں محمود خان اچکزئی کے خاندان کو مختلف عہدے اور مراعات حاصل رہیں، جس کے باعث موجودہ سیاسی صف بندی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی نے حالیہ لاہور کے دورے کے دوران یہ بیان دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اپنے کارکنان احتجاج کے لیے باہر نہیں نکلتے۔ بتول راجپوت کے مطابق اگر پی ٹی آئی نے اچکزئی پر جلد نتائج دکھانے کا دباؤ ڈالا تو اسی قسم کے فیڈ بیک کی بنیاد پر عمران خان انہیں گنڈا پور کی طرح عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔

بتول راجپوت کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر محمود خان اچکزئی کی تعیناتی حکومت کے حق میں جاتی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس سے اصل پی ٹی آئی اور عمران خان کی سیاسی اسپیس محدود ہو سکتی ہے، جبکہ اپوزیشن کے اندر طاقت کا توازن بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محمود خان اچکزئی کے دورہ لاہور کے بعد ہی انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ ہوگیا تھا، بتول راجپوت

انہوں نے تحریک انصاف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر عوام بڑی تعداد میں باہر نکل آئیں تو پارٹی قیادت کو ہر منگل اڈیالہ جانا نہ پڑے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان ایک آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں، جبکہ محمود خان اچکزئی ان کے سیاسی انداز کو فالو نہیں کریں گے۔

بتول راجپوت کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر کے طور پر کس حد تک مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چل پاتے ہیں اور یہ کردار ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

Related Articles