سینئر اینکر پرسن بتول راجپوت نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سیاست ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے کردار پر کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ محمود خان اچکزئی عمران خان کی اس پالیسی کو، جس میں احتجاج اور مذاکرات دونوں شامل ہیں، عملی طور پر کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں۔
بتول راجپوت نے سوال اٹھایا کہ آیا محمود خان اچکزئی اپنے پرانے سیاسی اتحادی نواز شریف اور موجودہ سیاسی حقیقت عمران خان کو بیک وقت ساتھ لے کر چل سکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 کی حکومت کے دوران نواز شریف کے دور میں محمود خان اچکزئی کے خاندان کو مختلف عہدے اور مراعات حاصل رہیں، جس کے باعث موجودہ سیاسی صف بندی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
محمود خان اچکزی عمران خان کی دو طرفہ پالیسی جس میں احتجاج اور مزاکرات شامل ہیں، کیسے آگے لے کر چلیں گے؟
اچکزی اپنے پرانے سیاسی دوست جن کی ۲۰۱۳ کی حکومت میں ان کے خاندان کو عہدے اور مراعات ملی، نواز شریف اور عمران خان کو ساتھ ساتھ چلا پائیں گے؟ ع
اچکزئی صاحب نے لاہور کے دورے پہ… pic.twitter.com/9a5QOWTLta— Batool Rajput (@batulrajpoot) January 17, 2026

