صدر، وزیراعظم اور اہم سیاسی رہنماؤں نے نمازِ عید کہاں ادا کی

صدر، وزیراعظم اور اہم سیاسی رہنماؤں نے نمازِ عید کہاں ادا کی

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کا تہوار روایتی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس پرمسرت اور مقدس موقع پر صدرِ مملکت، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور دیگر اہم سیاسی و حکومتی شخصیات نے ملک کے مختلف شہروں میں نمازِ عید ادا کی۔

یہ بھی پڑھیں:صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف کی قوم کو عید الاضحیٰ پر مبارکباد

نماز کے اجتماعات میں ملکی سلامتی، معاشی ترقی، استحکام اور یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔ رہنماؤں نے اپنے خطبات اور بیانات میں عوام کو عید کی مبارکباد پیش کی اور ایثار و قربانی کے حقیقی فلسفے پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہم شخصیات کی نمازِ عید کی ادائیگی کی تفصیلات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری

صدرِ مملکت نے سندھ کے شہر نواب شاہ (بینظیر آباد) میں اپنی رہائش گاہ ’زرداری ہاؤس‘ پر نمازِ عید ادا کی، جہاں انہوں نے مقامی رہنماؤں اور عوام سے عید کی ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں نمازِ عید ادا کی اور اس موقع پر امتِ مسلمہ بالخصوص مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سینیٹ کے اہم رہنما اور وزرا

سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں نمازِ عید ادا کی، جبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے فیصل آباد میں عید کا اجتماع جوائن کیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے شیخوپورہ کے اپنے آبائی گاؤں ’ننگل کسوالہ‘ میں نمازِ عید ادا کی اور مقامی وفود سے ملاقات کی۔

صوبائی گورنرز

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے اٹک میں جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں عید کی نماز ادا کی۔ دونوں گورنرز نے اپنے صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کیلئے دعا کی۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان

پشاور کے مشہور ’باغِ ناران‘ میں سہیل آفریدی نے عید کی نماز ادا کی، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سخت سیکیورٹی کے سائے میں نمازِ عید ادا کی اور صوبے میں امن و استحکام کی دعائیں مانگیں۔

سندھ کی قیادت

صوبہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ٹنڈو جام میں، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے تاریخی پولو گراؤنڈمیں نمازِ عید ادا کی، جہاں شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

عیدالاضحیٰ کا یہ تہوار ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کو متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی محاذ پر مہنگائی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے اثرات کے باعث عوام دباؤ میں ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔

سیاسی منظر نامے پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام سیاسی و حکومتی رہنماؤں نے عید کے اس موقع پر اپنے اپنے آبائی علاقوں اور سیاسی حلقوں کا رخ کیا تاکہ وہ نہ صرف اپنے ووٹرز اور حامیوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ استوار کر سکیں، بلکہ سیاسی طور پر یہ پیغام بھی دے سکیں کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے درمیان موجود ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں سیاسی شخصیات کا اپنے آبائی شہروں میں عید منانا اور ملکی سلامتی و خوشحالیکے لیے دعائیں مانگنا محض ایک روایتی عمل نہیں بلکہ اس کے گہرے سیاسی معنی ہیں۔

عوامی رابطہ مہم

شہباز شریف کا لاہور، آصف زرداری کا نواب شاہ، اور یوسف رضا گیلانی کا ملتان میں عید منانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام رہنما اپنے روایتی سیاسی گڑھ کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔

امن و امان کا پیغام

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کوئٹہ اور گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا ڈی آئی خان میں عید منانا سیکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے بلند کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ یہ علاقے طویل عرصے سے بدامنی کا شکار رہے ہیں۔

مفاہمت کی ضرورت

رہنماؤں کی جانب سے ’ترقی اور خوشحالی‘ کی دعائیں اس بات کا پیش خیمہ ہیں کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ’گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ‘ یا سیاسی مفاہمت کی اشد ضرورت ہے۔

Related Articles