سینئر تجزیہ کار خرم روکھڑی نے آزاد پوڈکاسٹ میں ملکی سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے عہدے کو اپنی جماعت کی سیاسی بحالی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک ہی نشست پر قومی اسمبلی پہنچے، تاہم اب وہ ایوان میں اپوزیشن لیڈر کے طاقتور اور اہم منصب پر فائز ہو چکے ہیں، جو انہیں قومی سطح پر نمایاں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
خرم روکھڑی کا کہنا تھا کہ قائد حزبِ اختلاف کا منصب نہ صرف پارلیمانی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتا ہے بلکہ اس کے ذریعے سیاسی جماعت کو دوبارہ منظم اور متحرک کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کے بقول محمود خان اچکزئی اس پلیٹ فارم کو اپنی جماعت کے سیاسی مفادات کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
پوڈکاسٹ کے دوران خرم روکھڑی نے سہیل آفریدی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتظامی اور حکومتی معاملات سے بالکل نابلد نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کو حتیٰ کہ اپنے چیف سیکریٹری کے فرائض اور ذمہ داریوں سے بھی مکمل آگاہی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں ہونے والے آپریشن کے حوالے سے سہیل آفریدی کی لاعلمی اور غیر مربوط بیانات ان کی ناتجربہ کاری کا واضح ثبوت ہیں۔
خرم روکھڑی نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے نوجوانوں کو جذباتی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور انہیں اکسا کر ریاست مخالف انتہاپسند بیانیے کی طرف دھکیلنے کا منصوبہ بنایا، تاکہ نوجوانوں کو ریاست سے ٹکرا دیا جائے۔ تاہم ان کے مطابق یہ حکمتِ عملی بری طرح ناکام ثابت ہوئی اور نوجوانوں نے اس بیانیے کو قبول نہیں کیا۔