کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان رینجرز کے جوان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور فائر بریگیڈ و دیگر ریسکیو اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ رینجرز کے اہلکار نہ صرف آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں بلکہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔.
ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئےسندھ رینجرز کے اہلکار فائر بریگیڈ کے عملے کے ساتھ امدادی سرگرمیوں اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیںامدادی آپریشن مکمل ہونے تک رینجرز کے آفسران اور جوان جا ئے وقوعہ پر موجود رہیں گے۔
متاثرہ عمارت کے گرد کارڈن کرکے ٹریفک کی روانی کو برقرار اور شہریوں کی حفاظت کےلیے رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی فائر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ رینجرز کے جوان پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں ۔
قیمتی املاک اور سامان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی سندھ رینجرز کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے
عینی شاہدین کے مطابق آگ عمارت کی بالائی منزلوں میں لگی جس کے باعث دھوئیں کے گھنے بادل دور دور تک نظر آئے۔ کئی افراد دھوئیں کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے جبکہ بعض افراد کھڑکیوں اور بالکونیوں میں مدد کے منتظر دکھائی دیے۔ اس موقع پر رینجرز کے جوانوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو سیڑھیوں اور دیگر دستیاب ذرائع کی مدد سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں مسلسل آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے بھی موقع پر موجود ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔