بھارت امریکہ تعلقات شدید تناؤ کا شکار،عالمی میڈیا نے مودی حکومت کے ’’شائننگ انڈیا‘‘دعو ئوں کی قلعی کھول دی

بھارت امریکہ تعلقات شدید تناؤ کا شکار،عالمی میڈیا نے مودی حکومت کے ’’شائننگ انڈیا‘‘دعو ئوں کی قلعی کھول دی

امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنے تازہ تجزیے میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو غیر معمولی دباؤ کا شکار قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے روابط اپنی تاریخ کے نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

جریدے کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کو امریکہ کا ’’اسٹریٹجک ستون‘‘ قرار دینے کا بیانیہ اب سوالات کی زد میں ہے، جبکہ مودی حکومت کے ’’شائننگ انڈیا‘‘ سے متعلق دعوؤں کی حقیقت عالمی میڈیا میں کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

فارن افیئرز کے مطابق پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار نے سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ جہاں پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی اور جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، وہیں بھارت نے اندرونی سیاسی دباؤ اور بیانیے پر کنٹرول کی خواہش کے تحت اس کردار کو مسترد کیا۔

امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی عسکری و سفارتی کامیابی کا بارہا ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ غیر معمولی گرم جوشی کو بھارتی حلقوں میں شدید سفارتی سبکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جریدے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے، جسے نئی دہلی میں ایک سخت پیغام کے طور پر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم، پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں فوقیت مل گئی، واشنگٹن ٹائمز

فارن افیئرز کے مطابق انہی اقدامات کے باعث واشنگٹن میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ بھارت بطور اسٹریٹجک شراکت دار ہاتھ سے نکل سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ معمولی اختلافات پر شدید ردِعمل دکھاتا رہے،بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت محض بیانیاتی اختلاف یا سفارتی انا کی بنیاد پر امریکہ سے فاصلے بڑھاتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مستحکم اور پراعتماد اسٹریٹجک پارٹنر نہیں۔

ماہرین کے مطابق پچیس سالہ بھارت امریکہ تعلقات کا تاثر چند واقعات سے متزلزل ہو جانا اس شراکت داری کی ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے[تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی دراصل بھارتی درخواست پر امریکی مداخلت سے ممکن ہوئی، تاہم بھارت اندرونی سیاسی وجوہات کے باعث اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، مسئلہ امریکی صدر کی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر مکمل کنٹرول کی بھارتی خواہش ہے، جو سفارتی حقائق سے متصادم نظر آتی ہے۔

ماہرین اس تضاد کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے، مگر دوسری جانب چین کے مقابلے میں امریکہ سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو واضح دوہرا معیار ہے[ان کے مطابق بھارت کا بڑھتا ہوا داخلی عدم تحفظ اس امر کی علامت ہے کہ وہ خود کو جس قدر مضبوط اور پراثر ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، زمینی حقائق اتنے ہی مختلف ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *