بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر علاقائی اور بین الاقوامی کرکٹ سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں پاکستان نے کھل کر بنگلادیش کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس حساس معاملے پر بنگلادیشی حکومت نے باضابطہ طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد اسلام آباد نے ڈھاکہ کو مکمل سفارتی اور اخلاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کی جانب سے بھارت میں میچز یا ایونٹس کے لیے ٹیم نہ بھیجنے کے فیصلے کے پیچھے ٹھوس اور معقول وجوہات موجود ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی حکام کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کھیل کے میدان میں سیاسی دباؤ، دھمکیوں یا خوف کے ذریعے دیگر ممالک کو فیصلے بدلنے پر مجبور کرے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے اور تمام ٹیموں کو برابری اور احترام کے ساتھ مواقع ملنے چاہییں۔حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ اگر بنگلادیش کے تحفظات کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا اور اس پر دباؤ برقرار رہا تو پاکستان اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے پر بھی نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔
اس امکان نے بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ کسی بڑے ایونٹ میں اہم ٹیموں کی ممکنہ عدم شرکت ٹورنامنٹ کی ساکھ اور مسابقتی معیار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کے مؤقف کو محض ایک دوطرفہ معاملہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ اصولی سوال ہے کہ آیا کھیل کو سیاسی مفادات کے تابع کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اسلام آباد کے مطابق اگر آج ایک ملک کو دباؤ کا نشانہ بنایا گیا تو کل کسی اور ٹیم کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جو عالمی کھیلوں کے لیے خطرناک مثال ہو گی۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے بنگلادیش کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں تنہا نہیں ہے اور پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر اس کے جائز مؤقف کی حمایت کرے گا۔