محکمہ موسمیات نے 21 اور 22 جنوری کے دوران مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کر دی ہےجبکہ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کے باعث فلیش فلڈ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبد اللہ، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، نوشکی، ہرنائی اور ژوب میں برفباری کا امکان ہے، جبکہ بارش کی توقع بارکھان، سبی، موسیٰ خیل، کوئٹہ، زیارت، گوادر، جیوانی، لسبیلہ، پنجگور، خضدار، چمن، پشین، قلعہ عبد اللہ، ژوب، کیچ، آواران، چاغی، لورالائی، تربت، قلات، نوشکی، واشک اور خاران میں کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں 21 سے 24 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کے اثرات کے باعث دریائے کابل اور اس سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ کا خدشہ ہے۔
خاص طور پر سوات، چترال، دیر، بونیر، شانگلہ اور دیگر اضلاع میں فلیش فلڈ کے خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور بروقت حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں، سیاحوں اور کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں میں غیر ضروری ٹریفک اور سرگرمیوں سے گریز کریں، مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور دریائے کابل کے کنارے آباد آبادی خاص طور پر محتاط رہیں۔
ساتھ ہی، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مدد فراہم کی جا سکے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ شدید موسم کئی علاقوں میں زندگی اور روزمرہ سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاط برتنے اور تمام ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔