سینئیر تجزیہ کاروں نے پی ٹی آئی کے ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا سے ہوا نکال دی

سینئیر تجزیہ کاروں نے پی ٹی آئی کے ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا سے ہوا نکال دی

سینئر تجزیہ کار منیب فاروق اور منصور علی خان نے پی ٹی آئی کے ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کی حقیقت عیاں کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار منیب فاروق نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ انتہائی بے معنی ہے کہ کوئی ذمہ دار شخص یہ تقاضا کرے کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اس کا ثبوت دیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ تاریخی طور پر دہشت گردی کا خطرہ واضح اور دستاویزی طور پر موجود ہے۔ 2014 میں اے پی ایس حملے کے بعد دہشت گرد افغانستان سے آئے اور انہیں شناخت کر کے مقدمات چلائے گئے اور سزا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث کئی حملہ آور بھی افغانستان سے آئے تھے۔ ان تاریخی حقائق کے باوجود اب ثبوت مانگنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان واقعی دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں، تو اس مرحلے پر ثبوت کا تقاضا کرنا محض غیر معقول ہے۔

منیب فارو ق نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا فوج، رینجرز یا فرنٹیئر کور (FC) یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے بچے، جوان یا سپاہی شہید ہوں؟ جواب بالکل نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے کوئی مشغلہ یا تفریح کا ذریعہ نہیں ہے۔ جب وہ آپریشنز پر جاتے ہیں تو اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ واپس آئیں گے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: حفیظ اللہ نیازی نے پی ٹی آئی کے ‘ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان’ بیانیے کے پرخچے اڑا دیے

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار منصور علی خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارے کے ساتھ اختلافات رکھ سکتا ہے۔ ماضی میں یہ ادارے انتخابات اور سیاسی عمل میں مختلف درجوں میں شامل رہے، اور عمران خان کی قید جیسے موضوعات بالکل الگ ہیں۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ صرف اختلافات کی بنیاد پر باقی تمام مسائل غیر اہم ہو جاتے ہیں۔

منصور علی خان نے کہا کہ بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا مسئلہ ادارے کے وجود سے ہے۔ 9 مئی کی توڑ پھوڑ اور معرکہ حق کے دوران پی ٹی آئی کا کردار بھی آپ کے سامنے ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھی مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کو ہر چیز سے مسئلہ ہے۔

پاکستان کی لڑائیاں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، اور معرکہ حق پاکستان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک تھی، تاہم بعض ساتھیوں نے ایسے کردار ادا کیے جو شرمناک اور افسوسناک ہیں۔ جو بات مجھے مزید افسردہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر چہرے وہ ہیں جو پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *