اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) عمران خان کے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست پر جیل حکام، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی، پی ٹی اے اور دیگر فریقین کے جوابات موصول ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ اگر عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے تو آئندہ سماعت پر حتمی دلائل سنے جائیں گے۔
کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں ہوئی۔ دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ تاحال اپنے مؤکل سے مشاورت کے لیے ملاقات نہیں کر سکے، جس کے باعث کیس کی مؤثر پیروی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ملاقات ہو جاتی ہے تو 24 فروری کو کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کے معاملے پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ہی ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد آفس سے بھی تحریری جواب طلب کیا گیا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں سے ملاقات کے معاملات سے متعلق کیسز ایک لارجر بنچ کے روبرو زیر سماعت ہیں اور جب تک ملاقات کی اجازت نہیں ملتی، اس کیس میں مزید پیش رفت مشکل ہے۔
سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ کیس دائر ہونے کے بعد سے انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، انہوں نے کہا کہ 2 ماہ قبل 4 نومبر کو عدالت کی جانب سے ملاقات کا واضح حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں ملاقات کے لیے واضح اور مؤثر احکامات جاری کیے جائیں تاکہ قانونی مشاورت مکمل ہو سکے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ملاقات کرائے بغیر کیس کو آگے بڑھانا ممکن نہیں، اگر ملاقات ہو جاتی ہے تو عدالت اس معاملے میں مزید پیش رفت کرے گی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا، تاہم عدالت نے پی ٹی اے کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ’آپ خود دیکھ لیں کہ رٹ پٹیشن کیا ہے اور آپ کا جواب کیا ہے‘، عدالت کے اس تبصرے کو پی ٹی اے کے مؤقف پر عدم اطمینان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس نہ صرف اظہارِ رائے اور سوشل میڈیا کے استعمال سے جڑا ہوا ہے بلکہ قیدیوں کے بنیادی حقوق اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی اہم نوعیت اختیار کر چکا ہے۔