آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری

آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری

آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کی اسکیم پر باضابطہ طور پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے، جس کے تحت الیکٹرک بائیکس پر 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم کی الیکٹرک وہیکل ایڈاپشن اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں الیکٹرک بائیکس، رکشے اور لوڈرز کے لیے سبسڈی کی ادائیگی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اس اسکیم کے تحت رواں مالی سال کے دوران تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے حکومت نے سال 2030 تک 100 ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ماحول دوست سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

اس اسکیم کے پہلے مرحلے میں منظور شدہ درخواست گزاروں کو سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے۔ فیز ون کے تحت مجموعی طور پر 41 ہزار الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دی جا رہی ہے، جن میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس جبکہ ایک ہزار الیکٹرک رکشے اور لوڈرز شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ سبسڈی براہِ راست اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے متعلقہ افراد کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

الیکٹرک بائیکس کے لیے 80 ہزار روپے تک کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس اسکیم کے تحت بینک لیز اسکیم کے ذریعے الیکٹرک بائیکس اور رکشے آسان اقساط پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عام شہریوں کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو ممکن بنانا ہے، تاکہ مہنگے ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا اہم فیصلہ، تنخوا دار طبقہ کے لیے بڑی خوشخبری

حکام نے بتایا کہ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں مزید 78 ہزار سے زائد الیکٹرک وہیکلز پر سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ الیکٹرک گاڑیاں ہی اس سبسڈی کی اہل ہوں گی۔

سرکاری حکام کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد سستی، پائیدار اور ماحول دوست سواری کو فروغ دینا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کی کھپت میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لانے میں مدد ملے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *