وزیراعظم شہبازشریف کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘پر دستخط، ٹرمپ تمام ممالک کیساتھ کام جاری رکھنے کیلئے پُرعزم

وزیراعظم شہبازشریف کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘پر دستخط، ٹرمپ تمام ممالک کیساتھ کام جاری رکھنے کیلئے پُرعزم

 سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ اہتمام ’بورڈ آف پیس‘ (Board of Peace)  معاہدے پر دستخط کر دیے۔ 

ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی، اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت  سعودی عرب ، ترکیہ ، یو اے ای ، قطر ، ہنگری ، انڈونیشیا ، قازقستان ،ازبکستان ، اردن ،بحرین ، مراکش ، آرمینیا ، ارجنٹائن ،کوسوو ، پیرا گوئے ، منگولیا ، آذربیجان اور بلغاریہ  نے بھی غزہ پیس آف بورڈ میں شمولیت کے چارٹر پر دستخط کر دیے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کا مشکور ہوں  ،  بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا، غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر بھی کیا، ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ملک ہیں، میں نے دونوں کے درمیان جنگ رکوائی، پاکستان کے وزیراعظم نے کہا آپ نے ایک یا دو کروڑ لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے 10 ماہ میں 8 جنگیں رکوائیں، شام کے صدر سے بات کی اور شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹائیں، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوشاں ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ورلڈ اکنامک فورم : وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد غزہ بحران کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نکالنا، غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا  اور بالآخر علاقے کی تعمیرِ نو کا آغاز کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق  ان کی ریاستی حیثیت اور حقِ خودارادیت کے تحفظ کو بھی اس عمل کا مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے  بورڈ کے ذریعے خطے میں مجموعی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کی کوشش کی جائےگی، پاکستان کی شمولیت کو ایک تاریخی اور حقیقت پسندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان عالمی سطح پر ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکا، چین اور روس جیسے بڑے عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن اور دوستانہ تعلقات ہیں، جس کے باعث وہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید برآں پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولی رہی ہے، چاہے معاملہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کاپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مؤقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *