امریکا کی کئی ریاستیں حالیہ شدید برفانی طوفان کی زد میں ہیں جس سے ملک کے بڑے حصے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موسم کی شدت سے تقریباً 20 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹیکساس، اوکلاہوما اور آرکنساس میں شدید برفباری ریکارڈ کی گئی جس کے بعد 18 ریاستوں میں ہنگامی حالات نافذ کیے گئے ہیں۔واشنگٹن، نیویارک، فلاڈیلفیا اور بوسٹن سمیت مشرقی اور وسطی امریکہ کے کئی شہروں میں بھی بھاری برف باری کا امکان ہے۔
نیویارک کے میئر نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ حادثات اور ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے،شدید برفباری کے پیش نظر، نو ریاستوں میں نیشنل گارڈز کو متحرک کیا گیا ہے تاکہ ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
برف باری کے اثرات کے باعث ملک بھر میں تقریباً 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ 84 ہزار سے زائد صارفین بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔امریکی صدر نے عوام کو یقین دلایا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ طوفان کی زد میں آنے والی تمام ریاستوں کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا ہے کہ برفباری کی شدت کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے دوران حفاظتی اقدامات اور ہنگامی رسپانس ٹیموں کی فوری دستیابی کے باعث نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔