وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ امن کے قیام کی امید کے تحت کیا گیا۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کو اس بین الاقوامی فورم میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی اور وفاقی کابینہ نے اس میں شامل ہونے کا اختیار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی شرکت کا مقصد یہ تھا کہ غزہ میں امن قائم ہو اور فلسطینی عوام کو عزت و وقار کے ساتھ اپنے حقوق حاصل ہوں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی اور وہاں کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم نے ڈیووس کے حالیہ دورے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ دورہ انتہائی مفید رہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیووس میں آئی ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی جس میں عالمی معیشت اور خطے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔
شہباز شریف نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ جنگ رکوانے پر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنگ رکنے سے جنوبی ایشیا کے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے سے بچایا گ اور اس خطے میں استحکام کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط سفارتی روابط کے ذریعے غزہ کے عوام کو فوری ریلیف اور طویل المدتی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت پاکستان کی امن پسندی اور انسانی حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے، اور یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے۔