نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ’لیو‘ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس رواں سال شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی سروس کے لیے مطلوبہ تعداد میں سیٹلائٹس مدار میں بھیجے جا چکے ہیں، جس کے بعد منتخب علاقوں میں مسلسل انٹرنیٹ کوریج فراہم کی جا سکے گی۔
‘لیو’ ایمیزون کا لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹ نیٹ ورک ہے، جسے اسپیس ایکس کی اسٹارلنک سروس کا بڑا حریف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت اسٹارلنک دنیا کا سب سے بڑا سیٹلائٹ نیٹ ورک چلا رہی ہے، جس کے مدار میں 10 ہزار سے زائد سیٹلائٹس موجود ہیں۔
ایمیزون نے 2 جولائی کو اپنے 14ویں مشن کے دوران یونائیٹڈ لانچ الائنس کے اٹلس وی راکٹ کے ذریعے مزید 29 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے، جس کے بعد ‘لیو’ نیٹ ورک میں شامل سیٹلائٹس کی مجموعی تعداد 396 ہو گئی ہے۔
ایمیزون لیو کے نائب صدر کرس ویبر کے مطابق کمپنی اتنی لانچز مکمل کر چکی ہے کہ رواں سال ابتدائی صارفین کو سروس فراہم کی جا سکے۔ تاہم نئے سیٹلائٹس کو پہلے اپنی مقررہ مدار میں پہنچنا ہوگا، جس کے بعد وہ انٹرنیٹ سروس دینا شروع کریں گے۔
کمپنی نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ سروس سب سے پہلے کن ممالک یا علاقوں میں متعارف کرائی جائے گی۔ توقع ہے کہ ابتدا میں شمالی اور جنوبی عرض البلد کے منتخب علاقوں میں سروس فراہم کی جائے گی، جس کے بعد مزید سیٹلائٹس کی تعیناتی کے ساتھ کوریج کو بتدریج دنیا بھر تک وسعت دی جائے گی۔
ایمیزون کے پہلے مرحلے کے مکمل نیٹ ورک میں 3 ہزار 200 سے زائد سیٹلائٹس شامل ہوں گے، جن کا مقصد دنیا بھر میں تیز رفتار سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔
ایمیزون نے ’لیو‘ سروس کے لیے تین مختلف رسیور بھی متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔لیو نینو ، 7×7 انچ سائز، 100 میگا بٹس فی سیکنڈ تک ڈاؤن لوڈ اسپیڈ لیو پرو ، 11×11 انچ سائز، 400 میگا بٹس فی سیکنڈ تک ڈاؤن لوڈ اسپ ۔ لیو الٹرا ، 20×30 انچ سائز، ایک گیگا بٹس فی سیکنڈ تک ڈاؤن لوڈ اور 400 میگا بٹس فی سیکنڈ تک اپ لوڈ اسپیڈ کی صلاحیت۔