شہزاد اکبر اور عادل راجہ کیس میں بڑی پیش رفت، مبینہ ملزم ہٹ مین نہیں، طالب علم نکلا

شہزاد اکبر اور عادل راجہ کیس میں بڑی پیش رفت، مبینہ ملزم ہٹ مین نہیں، طالب علم نکلا

شہزاد اکبر اور عادل راجا سے متعلق کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں آج پیش کیے گئے 25 سالہ نوجوان لوئیس ریگن کے حوالے سے عدالت کو اہم معلومات فراہم کی گئیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ لوئیس ریگن کوئی ہٹ مین نہیں بلکہ ایک صاف شفاف کردار کا حامل طالب علم ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لوئیس ریگن کا اب تک کوئی کریمنل ریکارڈ موجود نہیں ہے اور تاحال اس کیس میں اس کا کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق لوئیس ریگن کے خلاف کسی قسم کی سابقہ مجرمانہ سرگرمی کا اندراج بھی نہیں ملا۔

البتہ دورانِ سماعت یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ طالب علم BMW گاڑی کی خرید و فروخت میں ملوث پایا گیا تھا۔ یہی وہ گاڑی ہے جو عادل راجا اور شہزاد اکبر کے گھروں پر ہونے والی وارداتوں کے دوران استعمال ہوئی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گاڑی سے متعلق یہ پہلو تفتیش کا حصہ ہے، تاہم اس بنیاد پر بھی لوئیس ریگن کے کسی منظم یا ہدفی کارروائی میں ملوث ہونے کے شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔

کیس میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق پاکستان یا پاکستان کی کسی ایجنسی کا اس معاملے سے کسی بھی سطح پر کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اس کیس میں ریاستی سطح پر کسی سازش کے شواہد موجود نہیں ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ کسی منظم ریاستی منصوبہ بندی کے بجائے ایک عام چوری کی واردات معلوم ہوتا ہے، جسے بعد ازاں سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں غیر معمولی رنگ دیا گیا۔ عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات کے بعد کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف حکومت کے سابق مشیر شہزاد اکبر کالندن میں خود پر تیزاب پھینکنے کا دعویٰ جھوٹا ثابت

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *