وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اس وقت شدید اندرونی اختلافات اور تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جس کے باعث اس کی جانب سے کسی بھی احتجاج یا سیاسی دباؤ سے حکومت کو کوئی سنجیدہ خطرہ لاحق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر متعدد دھڑے بن چکے ہیں جس نے پی ٹی آئی کی سیاسی قوت کو کمزور کر دیا ہے،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت کم از کم پانچ سے چھوٹے گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے، جو نہ صرف ایک دوسرے سے متفق نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں 8 فروری کو اعلان کردہ احتجاج مؤثر ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے اتحاد اور واضح قیادت بنیادی شرط ہوتی ہےخواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پی ٹی آئی نے احتجاجی سیاست کے ذریعے خاصا شور مچایا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عوامی مقبولیت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔.
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو سب سے بڑا سیاسی نقصان خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اٹھانا پڑا، جہاں عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی کے وعدے پورے نہ ہو سکے۔ اس ناکامی کا اثر اب پارٹی کی مجموعی ساکھ پر بھی پڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے مذاکرات کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کے باوجود تحریک انصاف نے اب تک کوئی سنجیدہ یا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ قبول نہ کرنا خود پی ٹی آئی کی سیاسی بددیانتی کا ثبوت ہے۔ پارٹی سیاسی فائدہ تو حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن پارلیمانی ذمہ داریاں اٹھانے سے گریزاں ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کے ساتھ پی ٹی آئی کا اتحاد بھی غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، کیونکہ یہ اتحاد نظریاتی ہم آہنگی کی بجائے وقتی سیاسی مفادات پر مبنی ہے ۔