بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سکیورٹی چیلنج بن گئی

بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سکیورٹی چیلنج بن گئی

عالمی سطح پر حساس اداروں میں بھارتی نژاد شہریوں کی موجودگی اور رسائی کو ایک بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق مختلف ممالک کے اہم سرکاری، دفاعی اور سائبر اداروں میں بھارتی شہریوں کی شمولیت نے معلومات کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ برسوں میں متعدد واقعات منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سائبر دفاعی ادارے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا سے منسوب ایک واقعے نے امریکی محکمہ داخلی سلامتی میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

رپورٹ کے مطابق حساس نوعیت کی سرکاری دستاویزات ایک اے آئی ایپلیکیشن پر اپلوڈ کی گئیں، جو  فار آفیشل یوز کے زمرے میں آتی تھیں۔
اس واقعے کے بعد امریکی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ معلومات کے تحفظ کے موجودہ نظام میں کہاں خامیاں موجود ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مدھو گوتمکلا ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں سی آئی ایس اے کے عبوری سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ان کا تعلق بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے بتایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت کا جنگی جنون، بھارتی نیوی کے مختلف میری ٹائم ایجنسیز کے ساتھ ڈیٹا شئیرنگ و سیکورٹی معاہدات

اس پیش رفت کے بعد امریکی سیکیورٹی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ حساس اداروں میں تعینات افراد کے پس منظر اور ڈیجیٹل رویّوں کی نگرانی کس حد تک مؤثر ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بیرونِ ملک بھارتی نژاد افراد سے منسلک حساس معلومات کے لیک ہونے یا جاسوسی سے متعلق الزامات سامنے آئے ہوں۔
ماضی میں بھی ایسے کئی معاملات عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔

اکتوبر 2025 میں ایک معروف بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی، جن کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا امریکی سیکیورٹی اداروں نے اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔

اسی طرح 2023 میں قطر میں جاسوسی کے الزامات کے تحت بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کی گرفتاری نے بھی خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا تھا۔دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات ایک طویل المدتی پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں حساس معلومات، دفاعی منصوبوں اور سائبر نظام تک رسائی کے معاملات میں بھارتی نژاد افراد کے نام سامنے آتے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی اور خلیجی ممالک کو حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا جامع اور مسلسل جائزہ لینے کی ضرورت ہےان کے مطابق ریاستی سطح پر معلومات کے تحفظ کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید سخت اور شفاف بنانے کے بغیر عالمی سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *