بھارت کا جنگی جنون، بھارتی نیوی کے مختلف میری ٹائم ایجنسیز کے ساتھ ڈیٹا شئیرنگ و سیکورٹی معاہدات

بھارت کا جنگی جنون، بھارتی نیوی کے مختلف میری ٹائم ایجنسیز کے ساتھ ڈیٹا شئیرنگ و سیکورٹی معاہدات

آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت کا جنگی جنوں بڑھتا جا رہا ہے اور حال ہی میں بھارتی بحریہ نے جنگی تیاریوں کے پیشِ نظر بی ای ایل کمپنی کیساتھ نیشنل میری ٹائم ڈومین اوائیر نیس (این ایم ڈی اے) پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ مختلف میری ٹائم ایجنسیوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کو بڑھایا جا سکے اور میری ٹائم اور ساحلی سیکورٹی کو مضبوط کیا جا سکے۔

آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت میں مودی سرکار کا جنگی جنوں اور بالخصوص اپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مودی سرکار پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے اور حال ہی میں بھارتی نیوی نے بی ای ایل کمپنی کیساتھ این ایم ڈی اے پراجیکٹ جو مختلف میری ٹایم ایجنسیز کیساتھ ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق ہے ایک معاہدے پر دستخط کیئے ہیں۔

بھارت سے سامنے آنے والی تازہ ترین رپورٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ اپنی جنگی تیاریوں کو تیز کر رہی ہے، اب واضح سمندری اوور ٹونز کا مقصد پاکستان اور بحیرہ عرب اور بحر ہند میں وسیع تر علاقائی تسلط ہے۔ آزاد ریسرچ کے مطابق بھارتی بحریہ جنگی تیاریوں ک پیشِ نظر زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی سب میرین راکٹ (ERASR) کے کامیاب تجربات، INS Kavaratti سے فائر کیے گئے، اور اس طرح کے 17 یونٹس کی شمولیت سمندر کے اندر جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی طرف دانستہ اور جارحانہ دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر ساحلی پانیوں میں جہاں پاکستانی بحریہ کے اثاثے اکثر رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن نے رافیل سے متعلق بھارتی دعویٰ اور سی ای او سے منسوب بیان کی تردید کر دی

اس کے ساتھ ہی، نیشنل میری ٹائم ڈومین بیداری (NMDA) پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے ایک معاہدے پر دستخط بنیادی طور پر عسکری حوالے سے اسے جارحانہ انداز میں ضم کرنے کی جانب ایک واضح قدم ہے۔ ایک “ڈیٹا شیئرنگ” میکانزم ہونے سے دور، NMDA ایک ہتھیاروں سے چلنے والا انٹیلی جنس گرڈ ہے — جو سیٹلائٹ، سائبر، اور بحری اثاثوں کو ڈومینز میں جوڑتا ہے — واضح طور پر مخالف جہازوں اور انفراسٹرکچر کی پیشگی ٹریکنگ، ہدف بندی اور انکی تباہی کو فعال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت کی یہ جنگی تیاریاں دفاعی حکمتِ عملی کے لیئے نہیں بلکہ بھارت کی جارحانہ جنگی جنون کی عکاسی کرتئ ہیں بھارت کی اسٹریٹیجک ٹیکنالوجیز، سینسر پر مبنی جنگ، اور مقامی اسٹرائیک پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی صف بندی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ بھارتی بحریہ اب پاکستان کے ساتھ نہ صرف علاقائی پانیوں میں بلکہ بحر ہند کے علاقے (IOR) کی گہرائی میں پاکستان کے ساتھ ایک فعال مقابلے کے لیے کیلیبریٹ کرنےکی تیاریوں میں مصروف ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی AN/TPS-77 ریڈار کی فراہمی کی درخواست سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

آزاد ریسرچ کے مطابق ہندوستانی بحریہ کا نظریہ اب صرف ساحلی دفاع تک ہی محدود نہیں رہا ہے – یہ ایک فارورڈ تعینات فورس میں تبدیل ہو رہا ہے جو ڈومینز میں حملے شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکریت پسندی کی اس سطح کو، جو ’’ روایتی ترقی‘‘ کے پردے میں چھپی ہوئی ہے، خطرناک مضمرات کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف جنوبی ایشیا کے سمندری توازن کو غیر مستحکم کرنے کی درپردہ سازش ہے بلکہ اس سے عالمی جہاز رانی کے راستوں اور زیر سمندر مواصلاتی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

editor

Related Articles