پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد فضائی رابطہ بحال ہو گیا،بنگلہ دیش ایئرلائن کی پہلی پرواز ڈھاکا سے کراچی پہنچ گئی، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی سفر کا آغاز ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق فضائی رابطے کی بحالی سے دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے سفری سہولت میں اضافہ ہوگا، جبکہ مسافروں کے وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہری براہ راست پرواز کے ذریعے ایک دوسرے کے شہروں کا سفر کر سکیں گے، جس سے طویل اور مہنگے سفری راستوں سے بچا جا سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ براہ راست فضائی رابطے سے نہ صرف عوامی سطح پر روابط مضبوط ہوں گے بلکہ تجارتی اور سیاحتی شعبے کو بھی فروغ ملے گا۔ کاروباری افراد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفر آسان ہونے سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ سیاحت کے شعبے میں بھی بہتری متوقع ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے درمیان موجود تجارتی امکانات سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ براہ راست پروازوں کے ذریعے سرمایہ کاری اور کاروباری روابط میں بھی اضافہ ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
فضائی رابطے کی بحالی کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فضائی رابطے کی بحالی کو دونوں ممالک کے لیے ایک اہم سفارتی اور عملی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں تعاون اور روابط کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔