وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا کسی بھی ابراہیمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی پاکستان مستقبل میں ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔
جمعرات کو وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا،
انہوں نے وضاحت کی کہ بورڈ آف پیس اور سٹبلائزیشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز اور طے شدہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنا ہے، پاکستان کی شمولیت کا مقصد صرف اور صرف امن، استحکام اور سفارتی تعاون کا فروغ ہے۔
ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے، ہم طاقت کے استعمال، فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں امن بحال ہو اور تمام فریق تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے سے متعلق سوال پر طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان تعلقات مضبوط اور مثبت ہیں، پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی حجم بارہ ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے، بھارت کے یورپ کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ہے، تاہم پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے یورپی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ترجمان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اس ملاقات میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے دوطرفہ مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی و دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا، اس دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، ترجمان کے مطابق صدر زرداری کا حالیہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے، ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسی ہفتے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور مجموعی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کے سفر سے متعلق جاری ٹریول ایڈوائزری پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق اور مثبت ہیں، امریکا نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں، جو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا مظہر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، اس دورے کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں امن، سفارتکاری، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دیتا رہے گا اور خطے میں استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔