پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیشگی انتظامات کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ نے کی۔
اجلاس میں رمضان نگہبان پیکج کے تحت عوام کو ریلیف دینے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک میں ماڈل، سہولت اور خصوصی رمضان بازاروں میں 10 کلو آٹے کا تھیلا 850 روپے میں فراہم کیا جائے گا۔
معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سبسڈائز آٹا آسانی سے دستیاب بنانے کے لیے ہر فلور مل اپنے متعلقہ ضلع میں کم از کم تین سیل پوائنٹس قائم کرے گی، جہاں مقررہ نرخوں پر آٹا فروخت کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خصوصی رمضان بازاروں میں عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے چکن کی قیمت میں فی کلو 15 روپے جبکہ انڈوں کی قیمت میں فی درجن 10 روپے کمی کی جائے گی۔
رمضان المبارک کے دوران فلاحی اقدامات کے تحت پنجاب کی 152 تحصیلوں میں مجموعی طور پر 1216 “مریم کا دسترخوان” قائم کیے جائیں گے، جہاں روزانہ 250 افراد کو پورے ماہ مفت اور معیاری کھانا فراہم کیا جائے گا۔
سلمیٰ بٹ نے مزید کہا کہ رمضان المبارک سے قبل 15 فروری تک پنجاب بھر کے تمام رمضان ماڈل اور سہولت بازار مکمل طور پر فعال کر دیے جائیں گے۔ ان بازاروں کے اوقات کار صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ہوں گے تاکہ شہری آسانی سے خریداری کر سکیں۔
معاون خصوصی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ رمضان المبارک میں عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔