وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فتنۂ ہندوستان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی اداروں، پولیس، ایف سی اور پاک فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ وہ سب سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی تمام مصروفیات ترک کر کے کوئٹہ کا رخ کیا۔ ان کے مطابق کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے سی ایم ایچ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں تاہم آپریشن تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے خضدار کے بلوچ خاندان کی خواتین اور بچوں سمیت شہری جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز، پولیس، ایف سی اور پاک فوج نے نہایت بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور ان کی مہلک صلاحیت کو محدود رکھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وہ زخمیوں اور شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان کے بلند حوصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایسے حملوں سے قوم کا عزم کمزور نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جس انداز سے دہشت گردوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اور جس جرات کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کا مقابلہ کیا، وہ ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو تلاش کر کے جہنم واصل کیا گیا تاکہ کوئی فرار نہ ہو سکے۔
محسن نقوی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس طرح وہ فرنٹ فٹ پر قیادت کر رہے ہیں اور اپنی فورس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے چند اور سپاہی ہوں تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حملوں میں ملوث کسی بھی شخص، سہولت کار یا آقا کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس حوالے سے شواہد موجود ہیں، جنہیں دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منصوبہ بندی میں ملوث ہے، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے مل کر ان سازشوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔