پیٹرول سستا کرنے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں رکاوٹ بن گئیں، اوگرا کے فیصلے پر اعتراض

پیٹرول سستا کرنے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں رکاوٹ بن گئیں، اوگرا کے فیصلے پر اعتراض

پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد حکومت اور پاکستان کی آئل انڈسٹری کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ( او ایم سیز) اور ملک کی ریفائنریز نے الزام عائد کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی مارکیٹ کے اعداد و شمار کا درست انداز میں حساب نہیں لگایا جس کے نتیجے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمتوں میں ضرورت سے زیادہ کمی کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق آئل انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کے حالیہ پندرہ روزہ جائزے کے دوران اوگرا نے بین الاقوامی مارکیٹ میں Platts کے اوسط نرخوں اور درآمدی پریمیم (Premium) کی مکمل لاگت کو درست طور پر شامل نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی نرخوں اور درآمدی اخراجات کا درست حساب لگایا جاتا تو قیمتوں میں اتنی بڑی کمی ممکن نہ تھی۔

انڈسٹری کی جانب سے تیار کردہ تخمینوں کے مطابق اوگرا کے حساب کتاب کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 45 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت تقریباً 11 روپے فی لیٹر ضرورت سے زیادہ کم کر دی گئی۔ اس اضافی کمی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا ہونے کے بعد بیٹریاں اور سولر پلیٹس کی قیمتیں مزید گر گئیں

آئل سیکٹر سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت کے علاوہ Platts کی قیمتیں، درآمدی پریمیم، فریٹ چارجز، انشورنس، ایکسچینج ریٹ اور دیگر اخراجات بھی قیمتوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی عنصر کا درست حساب نہ لگایا جائے تو مقامی قیمتیں حقیقت سے مختلف ہو سکتی ہیں۔

انڈسٹری کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ فارمولے پر ہی قیمتوں کا تعین جاری رہا تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مالی مشکلات بڑھ سکتی ہیں جس کے اثرات مستقبل میں ایندھن کی درآمد، سپلائی چین اور مارکیٹ میں مصنوعات کی دستیابی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے حکومت اور اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے حالیہ تعین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور عالمی مارکیٹ کے اصل اعداد و شمار کی بنیاد پر حساب کتاب کو درست کیا جائے تاکہ صنعت کو غیر ضروری مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب اس معاملے پر اوگرا یا وزارتِ توانائی کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صنعت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات درست ثابت ہوئے تو آئندہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر نظرثانی کا امکان موجود ہے۔

editor

Related Articles