سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے خام تیل کی سرکاری فروخت قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اگست کے لیے خام تیل کی سرکاری قیمتوں (Official Selling Prices) میں بڑی کمی متوقع ہے جس کی بنیادی وجوہات عالمی منڈی میں خام تیل کی طلب میں کمی، سپلائی میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی مارکیٹ پر بڑھتا ہوا دباؤ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے خام تیل عرب لائٹ کی قیمت میں فی بیرل 6.5 سے 8 ڈالر تک کمی کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر یہ کمی عمل میں آتی ہے تو عرب لائٹ کی قیمت عمان اور دبئی کے اوسط نرخوں کے مقابلے میں صرف 1.5 سے 3 ڈالر پریمیم پر آ جائے گی جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کی اسپاٹ آئل مارکیٹ میں نمایاں کمزوری دیکھی گئی ہے۔ دبئی خام تیل کے پریمیم میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ عمان کے اسپاٹ ڈیفرینشلز بھی کئی برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں سپلائی طلب سے زیادہ ہو رہی ہے۔
سعودی قومی آئل کمپنی آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد اپنے اہم برآمدی ٹرمینل راس تنورہ سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی دستیابی مزید بہتر ہوگی، جس کے باعث قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
اگر سعودی عرب سرکاری قیمتوں میں متوقع کمی کا اعلان کرتا ہے تو اس سے ایشیا کی بڑی درآمد کنندہ معیشتوں، خصوصاً چین،پاکستان، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کی ریفائنریز کو نمایاں ریلیف ملے گا۔ کم قیمت پر خام تیل کی دستیابی سے ان ممالک میں ایندھن کی پیداواری لاگت کم ہونے اور توانائی کے شعبے پر مالی دباؤ میں کمی کا امکان ہے۔
پاکستان کے تناظر میں بھی ماہرین اس پیش رفت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں یا مزید کم ہوتی ہیں تو آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار عالمی نرخوں، درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ اور حکومتی پالیسی پر ہوگا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب ہر ماہ کی پانچ تاریخ کے آس پاس ایشیائی، یورپی اور امریکی خریداروں کے لیے خام تیل کی سرکاری فروخت قیمتوں کا اعلان کرتا ہے جنہیں عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اگست کے لیے متوقع کمی کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے تو یہ رواں سال خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی سب سے بڑی کمیوں میں سے ایک ہوگی