بلوچستان میں 40 گھنٹوں میں 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، سرفراز بگٹی

بلوچستان میں 40 گھنٹوں میں 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ 40 گھنٹوں کے دوران بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے، حملوں میں 31 شہری شہید اور کچھ زخمی ہوے ہیں یہ کارروائیاں صوبے کے مختلف علاقوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور اس وقت بلوچستان کے طول و عرض میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو چکی ہے۔

کوئٹہ میں خصوصی پریس بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’ہمارے پاس 145 دہشتگردوں کی لاشیں موجود ہیں‘، انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں نے مربوط حکمتِ عملی کے تحت دہشتگردی کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا اور ان عناصر کو مؤثر انداز میں ختم کیا گیا جو صوبے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

امن و امان کی صورتحال بہتر، سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیاں

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے بروقت اور پیشہ ورانہ اقدامات کے باعث بلوچستان میں حالات قابو میں ہیں، انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کی ممکنہ کارروائیوں سے متعلق پیشگی اطلاعات موجود تھیں، جن کی بنیاد پر آپریشنز کیے گئے اور بڑے پیمانے پر نقصان سے بچا لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت عوام کے جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

یہ کسی قومیت کی نہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے

سرفراز بگٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’یہ کسی قومیت کی جنگ نہیں بلکہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے‘، انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کارروائیاں کسی خاص قوم یا طبقے کے خلاف ہیں، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، قومیت یا علاقہ نہیں ہوتا اور ریاست اس ناسور کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہی ہے۔

بھارت پر سنگین الزام، دہشتگردی کے لیے ایندھن فراہم کرنے کا دعویٰ

وزیراعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ بھارت کے کہنے پر بلوچ نوجوانوں کو دہشتگردی کے لیے ایندھن بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں، تاہم ریاستی ادارے ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کر کے ریاست کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، مگر حقیقت اب عوام کے سامنے آ چکی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی

پریس بریفنگ کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور خفیہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا تعاون اور اعتماد ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسی یکجہتی کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن ضرور لوٹے گا، دہشتگردوں کا نہ کوئی قبیلہ ہے نہ قوم ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہزار سال بھی لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔

دہشتگردی کے واقعات پر سرفراز احمد بگٹی نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان شا اللہ بلوچستان میں امن ضرور لوٹے گا‘، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی قبیلہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم، یہ محض خونریزی اور انتشار پھیلانے والے عناصر ہیں جنہیں کسی بھی صورت بلوچ یا کسی قوم سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاستی ادارے بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے جاری کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی۔

افغانستان کی سرزمین کے استعمال پر تشویش

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ’بدقسمتی سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ بعض دہشتگرد گروہوں کو سرحد پار سے سہولت کاری حاصل ہے اور کارروائیوں میں بعض افغانی عناصر کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ یا خطے سے ہو، ریاست اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بنانے کی سازش

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اپنی کارروائیوں کے آغاز میں سب سے پہلے سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بنایا تاکہ نگرانی کے نظام کو ناکارہ بنایا جا سکے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اسی جگہ کو ان کے لیے جہنم بنا دیا‘ اور دہشتگردوں کو منظم انداز میں گھیر کر مؤثر کارروائی کی گئی۔

دہشتگرد بلوچ نہیں

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے زور دے کر کہا کہ ’یہ صرف دہشتگرد ہیں، انہیں بلوچ نہیں کہا جا سکتا‘، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر بلوچ شناخت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کا بلوچ ثقافت، روایات یا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بعض دہشتگرد گروہ بلوچ خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے ایندھن بناتے ہیں، جو نہایت قابلِ مذمت اور انسانیت سوز عمل ہے۔

آپریشن کے دوران آبادی خالی نہیں کرائی گئی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران بلوچستان کے کسی گاؤں یا شہر کو خالی نہیں کرایا گیا، کارروائیاں انتہائی احتیاط اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئیں تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

حکام کا کہنا تھا کہ عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اسی اصول کے تحت تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بندوق کے ذریعے نظریہ مسلط کرنے کی کوشش ناکام

سیکیورٹی حکام نے کہا کہ دہشتگرد بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کے یہ عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایک ہزار سال تک بھی لڑنا پڑا تو لڑیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی یکجہتی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی طاقت ہے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن، استحکام اور ترقی دشمن عناصر کو کسی صورت بلوچستان کا مستقبل تاریک کرنے نہیں دیا جائے گا۔

Related Articles