خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر سمیت متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ ان کے ٹھکانوں کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، اتوار کو جاری یہ آپریشن اپنے چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحصیل ڈومیل کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے سرچ اور کلیئرنس آپریشن تیز کر دیا گیا ہے، علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دفعہ 44 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی فرد کو بلا اجازت علاقے میں داخل ہونے یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
دہشتگردوں کے ٹھکانے مسمار
میڈیا رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر سمیت فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشتگردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے، جنہیں دھماکوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا، کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر حکمت عملی کے تحت دہشتگردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں، یاسر آفریدی کے مطابق آپریشن کے دوران ایک ایسی لاش بھی برآمد ہوئی ہے جس نے برقع پہن رکھا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشتگرد شہریوں میں چھپنے کے لیے خواتین کا بھیس اختیار کیے ہوئے تھے، ان کے مطابق مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 6 ہو چکی ہے۔
فرار کی کوشش ناکام، مزید ایک دہشتگرد ہلاک
پولیس حکام کے مطابق آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے پر ایک اور دہشتگرد مارا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ برقع پوش دہشتگردوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند عناصر شہری آبادی میں چھپنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
شہریوں کا انخلا، مقامی قبائل اور انتظامیہ کے درمیان جرگہ
آپریشن کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی احمد زئی قبائل، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام کے درمیان جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ضروری نقل و حرکت کی اجازت دینے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کے مطابق محدود نقل و حرکت کی اجازت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہدا اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا اعلان
کمشنر بنوں ڈویژن کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے 3 افراد کے لواحقین اور 4 زخمیوں کو سرکاری پالیسی کے تحت مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے گا، حکام کے مطابق علاقے میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بنوں اور گردونواح میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی۔