بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردوں سے افغان آرمی کے امریکی فراہم کردہ ہتھیار برآمد

بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردوں سے افغان آرمی کے امریکی فراہم کردہ ہتھیار برآمد

 بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں کے حالیہ حملوں کے دوران ملنے والے ہتھیار امریکی فراہم کردہ افغان فوجی ساز و سامان سے میل کھاتے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایک عام بی ایل اے دہشتگرد کے پاس ایک FN M16A4 رائفل ($1929)، LMT/M203 گرینیڈ لانچر ($2050)، Steiner DBAL A3 ایمنگ لیزر ($3557) اور PVS7 GA3 نائٹ وژن گگلز ($5280) موجود تھے۔

ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک دہشتگرد کے پاس موجود ہتھیاروں کی مجموعی قیمت تقریباً 13,000 امریکی ڈالر  بنتی ہے۔  یہ پاکستانی تقریبا پینتیس لاکھ  روپے بنتے ہیں  اگر یہ تعداد بڑھا کر 100 دہشتگردوں کے لیے کی جائے تو مجموعی قیمت تقریباً پینتیس کروڑ روپے بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بی ایل اے کو بلوچستان میں ناکام حملے کے بعد چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی،48 گھنٹوں میں بی ایل اے کے 145 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ دہشتگرد غربت کی وجہ سے لڑ رہے ہیں، تو یہ مہنگے ہتھیار کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ یا پھر یہ ہتھیار ان کے لیے کسی تیسرے فریق کی طرف سے خریدے جا رہے ہیں؟

 

اور ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ صرف بڑے ساز و سامان کی متوقع لاگت ہے، جو مہنگے گولہ بارود، میگزینز، ٹیکٹیکل بیلٹس، ٹیکٹیکل جیکٹس، خوراک اور سامان کے علاوہ ہے جو BLA دہشت گردوں کے پاس تھی، جو کہ بہت زیادہ اضافی اخراجات کا باعث بنتی۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک اور ہتھیاروں کے ممکنہ ذرائع پر مزید تحقیقات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے ہتھیاروں کی اصل منبع اور دہشتگردوں کے مالی ذرائع جاننے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔

 

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *