پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 4 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر پاکستانی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتا ہے اور حکومت کی پالیسی ٹرانسپورٹرز کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ ہڑتال کے دوران وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہڑتال کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ کئی معاہدے طے پائے تھے، مگر اب تک ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا کہ اگر معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ دوبارہ ملک گیر ہڑتال پر مجبور ہوں گے اور اس کی تمام ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر ہوگی۔دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے بھی خودساختہ بسوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام مسافروں پر مہنگائی کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم آئندہ 15 دنوں کے لیے پٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ صورتحال ملک میں ٹرانسپورٹ سیکٹر اور عوام دونوں کے لیے مالی دباؤ میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور ٹرانسپورٹرز دونوں متاثر نہ ہوں۔